.

ٹرمپ صدرامریکا نہیں، کریمنل ہیں، ایران ان سے مذاکرات نہیں کرے گا: مشیراعلیٰ خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیراعلیٰ برائے عسکری امور حسین دہقان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا کیونکہ وہ صدر امریکا نہیں بلکہ مجرم ہے۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی سے دستبردار نہیں ہوگا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق میجر جنرل حسین دہقان نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہم کسی بھی طرح ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت نہیں کریں گے کیونکہ ہم انھیں ایک مجرم خیال کرتے ہیں، امریکا کا صدر نہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں کریں گے اور ہم اپنی علاقائی پالیسی کو بھی جاری رکھیں گے۔‘‘

حسین دہقان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا نے اگر خلیج عرب میں ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مئی 2018ء میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ علاحدگی کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔امریکا نے تب سے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی برقرار رکھی ہوئی ہے اور اس کے خلاف سخت پابندیاں عاید کی ہیں جن سے ایرانی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ اب ایک نظرثاتی شدہ جامع سمجھوتے پر زوردے رہی ہے جس کے تحت اس کے جوہری پروگرام کے علاوہ بیلسٹک میزائل کے پروگرام کی سرگرمیوں پر بھی قدغنیں عاید کی جائیں اور اس کی خطے کے ممالک میں گماشتہ تنظیموں کے ذریعے مداخلت کو روک لگائی جائے۔

ایران مشرقِ اوسط کے ممالک میں حزب اللہ ، جہاد اسلامی ، حوثی ملیشیا اور عراق کی شیعہ ملیشیاؤں کے ذریعے مداخلت کررہا ہے جس کی وجہ سے اس کے ہمسایہ عرب ممالک نالاں ہیں۔تاہم اس کے باوجود حسین دہقان نے اس بیان میں کہا ہے کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔