.

الجزیرہ کو الاخوان المسلمون کنٹرول کرتی ہے: سابق قطری وزیراعظم کی معمر قذافی سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم نے افشا ہونے والی ایک صوتی ریکارڈنگ میں کہا ہے کہ دوحہ سے نشریات پیش کرنے والے الجزیرہ نیٹ ورک کو الاخوان المسلمون کنٹرول کرتی ہے۔انھوں نے یہ گفتگو مبیّنہ طور پر لیبیا کے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی سے کی تھی۔

اس صوتی ریکارڈنگ میں کرنل معمرقذافی کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے:’’الاخوان المسلمون کے ارکان الجزیرہ کے پروگراموں کو کنٹرول کررہے ہیں۔‘‘

اس کے جواب میں سابق قطری وزیراعظم کہتے ہیں:’’ میں آپ سے متفق ہوں ۔میں آپ سے یہ کہہ رہا ہوں یہ بات بالکل درست ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر نے الاخوان المسلمون کے علاوہ داعش اور القاعدہ کو دہشت گرد تنظیمیں قراردے رکھا ہے۔

قطر کے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن خالد الحائل نے سوشل میڈیا پر یہ نئی آڈیو ریکارڈنگ پوسٹ کی ہے لیکن العربیہ اس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق معمر قذافی عالمی لیڈروں کے ساتھ اپنی ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو اس طرح خفیہ طور پر ریکارڈ کر لیا کرتے تھے اور 2011ء میں ان کی حکومت کے خاتمے اور اندوہناک قتل کے بعد سے وقفے وقفے سے ایسی ریکارڈنگ جاری کی جارہی ہیں۔

قبل ازیں ایسی آڈیو ریکارڈنگز میں قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی اور شیخ حمد بن جاسم کی معمر قذافی سے خفیہ بات چیت کی تفصیل سامنے آ چکی ہے۔ان میں قطر کی خارجہ پالیسی اور الجزیرہ کی ادارتی پالیسی زیر بحث آئی تھی۔

ایسی ہی ایک لیک ریکارڈنگ میں قطر کے سابق وزیراعظم اور کرنل قذافی کو سعودی عرب کے بارے میں منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا تھا اور انھوں نے سعودی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

شیخ حمد بن جاسم نے اس ریکارڈنگ کی صحت سے انکار نہیں کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی کو ممنون احسان کرنے کے لیے الجزیرہ کی ادارتی پالیسی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے 2013ء میں اقتدار اپنے بیٹے اور موجودہ امیر شیخ تمیم کے حوالے کردیا تھا۔شیخ حمد بن جاسم تب اپنے حکومتی عہدوں سے دستبردار ہوگئے تھے اور اِس وقت مبیّنہ طور پر ان کے موجودہ امیر سے کشیدہ تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

لیبیا کے سابق مطلق العنان لیڈر معمر قذافی کو 20 اکتوبر 2011ء کو باغی جنگجوؤں نے ان کے آبائی شہر سرت میں بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا۔ان کے مخالف گروپوں نے اسی سال کے اوائل میں عرب بہاریہ تحریک کے زیرِاثر مسلح بغاوت برپا کردی تھی۔ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا میں خانہ جنگی جاری ہے۔