.

سوڈان کا امریکا سے 1998ء میں بم دھماکوں کے ہرجانے پر تصفیہ طے پانے کے قریب!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کا امریکا سے 1998ء میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں کے باہر بم دھماکوں کے مقتولین کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے کا معاملہ طے پانے کے قریب ہے۔

یہ بات سوڈانی وزیر خارجہ اسماء عبداللہ نے منگل کے روز فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے ایک انٹرویو میں بتائی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ نیروبی اور دارالسلام میں بم دھماکوں کے متاثرین سے تصفیہ کے مسودے کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس وقت ہمارا ایک وفد واشنگٹن میں متاثرین کے وکلاء اور امریکی محکمہ خارجہ کے حکام سے بات چیت کے لیے موجود ہے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا کی سپریم کورٹ نے فروری میں سوڈان کے خلاف چار ارب 30 کروڑ ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ بحال کرنے کا اشارہ دیا تھا۔امریکا میں بم دھماکوں کے مقتولین اور مجروحین کے لواحقین نے سوڈان کے معزول صدر عمر حسن البشیر کی حکومت کے خلاف بم دھماکوں کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ان بم دھماکوں میں 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسماء عبداللہ نے کہا کہ اگر امریکا سے سمجھوتا طے پاجاتا ہے تو اس طرح سوڈان امریکا کی بلیک لسٹ سے اپنا نام حذف کرانے کے لیے تمام شرائط کو پورا کردے گا۔امریکا نے سوڈان کا نام دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کررکھا ہے اور اس پر مختلف پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔ تاہم ان میں سے بعض پابندیاں سعودی عرب کی مداخلت کے بعد ختم کی جاچکی ہیں۔