.

لیبیا میں ترکی کے عزائم، تعمیر نو کے منصوبے اور کمپنیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں کوئی شک نہیں کہ ترکی کا اعلی اختیاراتی وفد کا گذشتہ ہفتے طرابلس کا دورہ قابل ذکر رہا۔ خاص طور پر جب اس وفد نے لیبیا میں اپنا کام مکمل کرنے کے لیے ترک کمپنیوں کی واپسی پر تبادلہ خیال کی۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاری ، انفراسٹرکچر اور تیل کے شعبوں میں تعاون کے طریقہ کار بھی دونوں حکومتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں زیر بحث رہا۔

ترکی نے لیبیا میں خاص طور پر تعمیر نو اور توانائی کے شعبوں میں زیادہ تر متوقع سرمایہ کاری کے حصول کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبوں کےٹھیکے حاصل کرنا شروع کیے ہیں۔

درحقیقت انقرہ اور طرابلس کی قومی وفاق حکومت کے درمیان طرابلس میں ملاقاتوں اور مشاورت کا آغاز ترک کمپنیوں کو لیبیا واپس کرنے کے لیے یا تو اپنے منصوبوں کو بحال کرنے کے لیے تھا۔ ترکی لیبیا کے سابق لیدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے سبب معطل ہونے والے منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ نئے منصوبوں پربھی کام شروع کرر رہا ہے۔

اس وقت ترکی کا اہم ہدف لیبیا کے وسائل حاصل کرنا ہے اور اس کے لیے انقرہ نے تعمیر نو کے منصوبوں کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس تناظر میں لیبیا کے معاشی تجزیہ کار محمود العون جو تیل کمپنی کے سابق ڈائریکٹر ہیں کا کہنا ہے کہ لیبیا میں انقرہ کے معاشی عزائم اب پوشیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ترکی کے سرکاری عہدیداروں کے بیانات اور لیبیا میں ان کی نقل و حرکت پر غور کرتے ہیں وہ لیبیا میں ترک مفادات اور ان کی مداخلت اور حمایت کے محرکات پر واضح موقف رکھتے ہیں۔ لیبیا کے پیسے، قدرتی وسائل اور تیل کے شعبوں پر ترکی نے گہری نظریں جمائی ہوئی ہیں۔ ان وسائل کے حصول کے لیے ترکی لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو گرنے سے بچانے اور نیشنل آرمی کے خلاف لڑائی میں اس کی مدد کررہا ہے۔

العون نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ترکی کا مقصد چند سال قبل معمر قذافی کی معزولی کے بعد ترک کمپنیوں کے منصوبوں کے معاوضوں کا حصول ہے۔ لیبیا کی قومی وفاق حکومت نے اس حوالے سے انقرہ کو ہرممکن تعاون کی بھی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔