ایران اور وینزویلا کے ساتھ تجارتی شراکت داروں کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: مائیک پومپیو
ایسے وقت میں جب کہ ایران اور وینزویلا تعاون کے گوند میں ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں ،،، امریکا کی جانب سے فریقین پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
اس حوالے سے واشنگٹن نے ایرانی سمندری آئل ٹینکروں کے پانچ کپتانوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ کپتان وینزویلا کے لیے امداد لے کر گئے تھے۔ امریکا کے اس اقدام کا مقصد وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو کی حکومت پر دباؤ کو بڑھانا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کی شب کی گئی ٹویٹ میں کہا کہ جو ملاح بھی ایران اور وینزویلا کے ساتھ تجارت کا حصہ بنیں گے انہیں نتائج بھگتنا ہوں گے۔
The U.S. is sanctioning five Iranian captains who delivered gasoline and its components to Venezuela. No one believes Maduro’s claims of equal and fair gasoline distribution – these rogue regimes must stop squandering their people’s wealth and resources with corrupt schemes.
— Secretary Pompeo (@SecPompeo) June 24, 2020
پومپیو نے مزید کہا کہ مذکورہ پانچوں کپتانوں کے ناموں کو امریکی وزارت خزانہ کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایران کی جانب سے وینزویلا کو تیل سے بھرے پانچ سمندری آئل ٹینکر بھیجے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
پومپیو کی ٹویٹ کے جواب میں وینزویلا کے وزیر خارجہ خورخی اریازا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام وینزویلا کے خلاف ٹرمپ کے شاہینوں کی نفرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے اپنی ٹویٹ میں باور کرایا ہے کہ ایران اور وینزویلا ،،، امریکا کی پابندیوں کے سامنے کھڑے ہونے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یاد رہے کہ سوشلسٹ صدر نیکولس میڈورو کی حکومت کے سقوط کے لیے کوشاں امریکا نے وینزویلا اور ایران کے خام تیل کی برآمدات اور اسی طرح دونوں ملکوں میں کئی سرکاری اور عسکری ذمے داران پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
وینزویلا کے پاس مصدقہ طور پر دنیا میں تیل کے سب سے زیادہ ذخائر ہیں مگر اس کی پیداوار میں بھرپور طریقے سے کمی واقع ہوئی ہے۔
ایران بارہا صدر میڈورو کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔ میڈورو کو روس، چین اور کیوبا کی حمایت بھی حاصل ہے۔
یاد رہے کہ وینزویلا اور ایران کے بیچ قریبی تعلقات وینزویلا کے سابق صدر ہوگو شاویز (1999-2013) کے دور سے چلے آ رہے ہیں۔