.

برطانیہ : گرمی سے بے حال عوام احتیاطی تدابیر بھلا کر ساحل سمندر پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے وزیر صحت میٹ ہینکوک نے جمعرات کی شب جاری ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں بالخصوص جنوبی انگلینڈ میں واقع ساحلوں پر آنے والوں نے ماسک لگانے اور کم از کم دو میٹر کے سماجی فاصلے سے متعلق پابندیوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو حکومت مذکورہ ساحلوں کو بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ وزیر صحت کا یہ بیان ان وڈیو کلپوں اور تصاویر کو دیکھنے کے بعد سامنے آیا ہے جن میں جنوبی انگلینڈ کی کاؤنٹی ڈورسٹ میں واقع قصبے Bournemouth کے ساحل پر پانچ لاکھ کے قریب افراد اکٹھا نظر آ رہے ہیں۔

برطانوی وزیر کے مطابق عوام کا اس خطر ناک طریقے سے ساحلوں پر جمع ہونا ،،، حکومت کی جانب سے ریستوران، دکانیں اور ہوٹلوں سمیت بہت سے عوامی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا منصوبہ برباد کر سکتا ہے۔ ان مقامات کو 4 جولائی سے دوبارہ کھولے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بدھ کے روز برطانوی شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کرونا وائرس سے نمٹنے میں کسی تساہل یا ڈھیلے پن کا مظاہرہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل ہیلتھ سروس کے نام سے معروف طبی انجمن میں ڈاکٹروں اور تیمارداروں کی ایک بڑی تعداد کو شامل کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں گرمی کی لہر جاری ہے۔ اس کے نتیجے میں برطانویوں کی ایک بڑی تعداد سمندر کے ساحلوں پر تفریح کے لیے پہنچ گئی۔ میڈیا میں سامنے آنے والی تصاویر کے مطابق لوگوں میں اکثریت نے حفاظتی ماسک اور سماجی فاصلے کا کوئی اہتمام نہیں کیا۔