.

سعودی عرب: 2022ء تک 38 سیاحتی مقامات کے افتتاح کے لیے کام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر سیاحت احمد بن عقیل الخطیب نے انکشاف کیا ہے کہ مملکت 2022 تک سات علاقوں میں 38 سیاحتی مقامات کے افتتاح کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کے مقابل فی الوقت وقت مملکت میں 4 علاقوں کے 15 مقامات سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہیں۔ الخطیب سعودی ٹورزم اتھارٹی کے بورڈ آف مینجمنٹ کے چیئرمین بھی ہیں۔

الخطیب نے یہ بات سعودی ذرائع ابلاغ کی اہم شخصیات کے ساتھ "زووم" کے ذریعے منعقد ہونے والی میٹنگ کے دوران کہی۔

سعودی روزنامے الریاض کے مطابق الخطیب نے اپنی گفتگو کے دوران بتایا کہ سیاحت کے شعبے میں مملکت میں بڑے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ ان کا مقصد مملکت میں سیاحت کے شعبے میں انفرا اسٹرکچر اور خدمات کی سطح کو بلند کرنا ہے۔ سیاحت کے حوالے سے منصوبوں میں نیوم، بحر احمر، القدیہ اور الدرعیہ گیٹ وے نمایاں ترین ہیں۔

سعودی وزیر نے باور کرایا کہ سیاحت کا سیکٹر مملکت میں روزگار کے مواقع جنم دے گا۔

الخطیب نے مزید کہا کہ "سعودی حکومت ویژن 2030 پروگرام کے حصے کے طور پر سیاحتی سیکٹر کو ترقی دینے کی شدید خواہش رکھتی ہے۔ دنیا بھر کی معیشتوں میں مجموعی آمدنی کا اوسطا 10% حصہ سیاحت کے سیکٹر سے حاصل ہوتا ہے۔ ہسپانیہ اس شعبے سے 18% اور فرانس 16% آمدنی کو جنم دیتا ہے جب کہ مملکت میں یہ تناسب فی الوقت 3.5% ہے۔ ہم 2030ء تک مجموعی آمدنی میں سیاحت کے سیکٹر کا حصہ 10% تک پہنچانا چاہتے ہیں"۔

الخطیب کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں سیاحت کے سیکٹر سے تقریبا 6 لاکھ افراد وابستہ ہیں۔ وزارت سیاحت آئندہ تین برسوں کے دوران 2.6 لاکھ مزید ملازمتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سال 2030ء تک مزید دس لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا ہدف مقرر ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر اس وقت تک روزگار کے تقریبا 16 لاکھ مواقع پیدا ہوں گے"۔

سعودی وزیر نے بتایا کہ سیاحتی ویزوں کو متعارف کرانے کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ رواں سال فروری کے آخر تک 5 لاکھ سے زیادہ سیاحتی ویزے جاری کیے گئے۔ الخطیب کے مطابق سعودی عرب کا ہدف ہے کہ 2030ء تک اندرونی اور بیرونی سطح پر سیاحوں کی سالانہ تعداد 10 کروڑ تک پہنچائی جائے۔ یہ تعداد اس وقت 4.1 کروڑ افراد ہے۔