.

گرمیوں میں کرونا کی شدت میں کمی کے بعد موسمِ خزاں میں اضافہ ہو سکتا ہے: عالمی ادارہ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک بار پھر خبرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کرونا وائرس کی دوسری لہر میں لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں"۔ ادارے نے باور کرایا کہ کرونا کی وبا قطعا ختم نہیں ہوئی ہے اور توقع ہے کہ موسم گرما میں وائرس میں کمی آنے کے بعد یہ موسمِ خزاں میں ایک بار پھر سرگرم ہو گا، جیسا کہ ہسپانوی انفلوئنزا کے معاملے میں ہوا تھا۔

دنیا بھر میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ کی حد کو چُھو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے مطابق کرونا وائرس ابھی تک اسی طرح پھیلا ہے جس طرح ادارے کے ذمے داران نے توقع ظاہر کی تھی۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران بعض تحقیقی مطالعات اور سائنس دانوں کی جانب سے یہ توقع ظاہر کی گئی کہ کرونا وائرس میں موسم گرما کے مہینوں کے دوران کمی واقع ہو گئی۔ عالمی ادارہ صحت میں ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک ریون رواں سال مارچ میں واضح کر چکے ہیں کہ یہ سوچ رکھنا غلط ہے کہ کرونا وائرس موسم کی صورت حال سے متاثر ہوتا ہے اور وہ انفلوئنزا کی طرح موسم گرما میں غائب ہو جائے گا۔ ڈاکٹر ریون کے مطابق یہ امکان ایک ایسا مفروضہ ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔

گذشتہ دو روز کے دوران عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد جلد ہی ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ ادارے نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فیصلے کرنے اور کرونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر اور اقدامات ختم کرنے میں جلد بازی نہ کریں۔