.

اقوام متحدہ کی ایران کی ’شرمناک‘ تخریبی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ: سعودی عرب کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی ایرانی اسلحہ کے بارے میں نئی رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔اس رپورٹ میں تحقیقات کے بعد انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ سال مختلف شہروں پر حملوں کے لیے ایرانی میزائل استعمال کیے گئے تھے۔سعودی عرب نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ اب بین الاقوامی شراکت دار ایران کی شرم ناک توسیع پسندانہ سرگرمیوں کے بارے میں اس کی دیرینہ تشویش کو تسلیم کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں متعیّن سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مملکت سعودی عرب مستقل طور پر اسلحہ کے ان سمجھوتوں کے بارے میں خبردار کرتی رہی ہے جن میں ایران کے توسیع پسندانہ علاقائی عزائم سے صرف نظر کیا گیا تھا اور علاقائی ریاستوں کی سلامتی سے متعلق جائز تشویش کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ آج ہمیں خوشی ہے کہ بین الاقوامی شراکت دار ان امور کو تسلیم کررہے ہیں۔اس میں کچھ وقت لگا ہے لیکن نہ ہونے سے تاخیر سے ہونا بہتر ہے۔‘‘

ایک اور سعودی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’اس رپورٹ سے ایران کی خطے میں شرم ناک سرگرمیوں کے بارے میں موجود معلومات کی تصدیق ہوگئی ہے۔‘‘

اس عہدے دار نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایران خطے میں ایک تخریبی اور عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت ہے۔اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ذمے دار ارکان خطے میں ایران کے مقاصد کے مخالف کام کررہے ہیں۔یہ رپورٹ ہمیں یہ یاددہانی کراتی ہے کہ ایرانی جارحیت کے مقابلے میں باہمی تعاون کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

ایران کے بارے میں یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے لکھی ہے۔اس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا ہے۔اس قرارداد کے ذریعےاقوام متحدہ نے ایران سے جولائی 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے المعروف بہ مشترکہ جامع لائحہ عمل ( جے سی پی او اے) کی توثیق کی تھی۔

اس رپورٹ کا حاصل کلام یہ ہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ سال مئی میں عفیف میں واقع تیل کی تنصیبات ، جون اور اگست میں ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ستمبر میں بقیق اور ہجرہ خریص میں واقع سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں میں ایرانی اسلحہ استعمال کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران سے یمن کے لیے بھیجی گئی اسلحہ کی دو کھیپیں پکڑی گئی تھیں۔ یہ اسلحہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منتقل کیا جارہا تھا۔

ایک تھنک ٹینک جوہری ایران مخالف اتحاد کے پالیسی ڈائریکٹر جیسن براڈسکی کا کہنا ہے کہ ’’اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے امریکا کا ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع کے لیے کیس مضبوط ہوگا۔اس پر پابندی کی یہ مدت 18 اکتوبر 2020 کو ختم ہورہی ہے۔درحقیقت ایسے شواہد موجود ہیں کہ ایران اپنے ہتھیاروں کی برآمدی کھیپوں میں اضافہ کررہا ہے۔ حتیٰ کہ لیبیا میں بھی ایرانی ساختہ ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل پائے گئے ہیں۔‘‘

ایرانی میزائلوں کی یمن منتقلی نیا معاملہ نہیں

سعودی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ ایرانی ہتھیاروں کی یمن میں منتقلی کے بارے میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کوئی نئی چیز نہیں۔عرب اتحاد نے یمن میں مداخلت کے آغاز کے بعد سے دوسرے دوست ممالک کے ساتھ حوثی ملیشیا کو ایران سے بھیجے گئے اسلحے کی کئی کھیپیں پکڑی ہیں۔درحقیقت ایران جس طرح عراق ، شام اور لبنان میں دہشت گرد ملیشیاؤں کو اسلحہ منتقل کررہا ہے،اس طرح اس نے یمن میں حوثی ملیشیا کو اسلحہ منتقل کیا ہے اور اس تمام عمل میں ایک طرح کی مماثلت پائی جاتی ہے۔

سعودی عہدے دار کے مطابق ’’یہ رپورٹ ایران کی خطے میں تخریبی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی نئی بحث متعارف نہیں کرارہی ہے بلکہ یہ تمام باتیں تو خطے پر نظر رکھنے والے ہر مبصر کو پہلے سے معلوم ہیں اور یہ رپورٹ ایک طرح سے ان معلوم حقائق کا اعادہ ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ایران نے گذشتہ کئی برسوں کے دوران میں گماشتہ گروپوں کا ایک بڑا نیٹ ورک تشکیل دیا ہے اور اس کے نتیجے میں ایران پورے خطے ہی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک لگانا تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔خطے میں ایرانی مسئلہ سے نمٹنے کا پہلا قدم دراصل اس کو تسلیم کرنا ہے۔‘‘

ایران نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے حاصلات کی صحت سے انکار کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے نے غیر منصفانہ طور پر سیاسی دباؤ پر اس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لیکن سعودی عہدے دار نے ایران کے اس انکار کو مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایران اپنے اسلحہ کی حقیقت کو چھپانے میں ناکام رہا تھا کیونکہ ان میں بہت سے ہتھیاروں پر فارسی زبان میں نشانات لگے ہوئے تھے۔

انھوں نے سعودی عرب میں مارگرائے گئے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے انجن کا حوالہ دیا ہے۔یہ ایران کی فوجی پریڈ میں نمائش کے لیے رکھے گئے ایک انجن کے مشابہ تھا۔ غیر جانبدار ماہرین نے بھی اقوام متحدہ کی رپورٹ پر کسی حیرت کا اظہار نہیں کیااور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایران کی حوثی ملیشیا کو اسلحہ مہیا کرنے کے بارے میں رپورٹس ہی کی توثیق ہوئی ہے۔