.

سعودی عرب اورامریکا ایران کو اسلحہ کی برآمد سے باز رکھنے کے لیے کام کررہے ہیں:عادل الجبیر

حوثی ملیشیا نے سعودی عرب میں شہریوں پر1659 حملے کیے،شہروں اور قصبوں پرایرانی ساختہ 318 بیلسٹک میزائل داغے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب امریکا کے ساتھ مل کر ایران کو اسلحہ کی برآمد سے روکنے کے لیے کام کررہا ہے۔اس نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ ایران کے خلاف اسلحہ کی تجارت پر عاید پابندی میں توسیع کی جائے۔

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے سوموار کو یہ مطالبہ ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہُک کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یمن میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نواز حوثی ملیشیا نے سعودی عرب میں شہریوں پر 1659 حملے کیے ہیں اور سعودی شہروں اور قصبوں کی جانب ایرانی ساختہ 318 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

عادل الجبیر نے مزید بتایا کہ حوثی ملیشیا نے اسلحہ سے لدے 371 ڈرون سعودی عرب پر حملوں کے لیے بھیجے ہیں۔باب المندب اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی میں رخنہ ڈالنے کے لیے دھماکا خیز مواد سے لدی 64 کشتیوں سے حملوں کی کوششیں کی ہیں۔

سعودی وزیر مملکت نے نیوزکانفرنس میں ایران کی دوسرے ملکوں میں لوگوں کو قتل کرنے کی تاریخ کی تفصیل بھی بیان کی ہے اور بتایا کہ ایرانی نظام نے ملک میں 1979ء کے انقلاب کے بعد سے دنیا بھر میں 360 سے زیادہ افراد کو قتل کیا ہے۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب اپنے شہریوں اور مکینوں کی سلامتی اور تحفظ اور اپنی تنصیبات کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتا کمزور ہے مگراس نے اس کے باوجود اس کی خلاف ورزی جاری رکھی ہوئی ہے۔ دنیا کو ایران کی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔‘‘

اقوام متحدہ نے اپنی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ سال مختلف شہروں پر حملوں کے لیے ایرانی ساختہ میزائل استعمال کیے گئے تھے۔ ایران کے بارے میں یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے لکھی ہے۔اس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا ہے۔اس قرارداد کے ذریعےاقوام متحدہ نے ایران سے جولائی 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے المعروف بہ مشترکہ جامع لائحہ عمل ( جے سی پی او اے) کی توثیق کی تھی۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ سال مئی میں عفیف میں واقع تیل کی تنصیبات ، جون اور اگست میں ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ستمبر میں بقیق اور ہجرہ خریص میں واقع سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں میں ایرانی اسلحہ استعمال کیا گیا تھا۔