.

ویانا میں متحارب مظاہرین کی جھڑپوں کے بعد ترکی اور آسٹریا میں کشیدگی، سفیروں کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریا نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ گذشتہ ہفتے دارالحکومت ویانا میں کرد اور ترک مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے ذمے دارعناصر کا سراغ لگائے گا۔ان جھڑپوں کے بعد ویانا اور انقرہ کے درمیان کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی آگئی ہے۔

ترک وزارت خارجہ نے آسٹریا پرمظاہرین سے نمٹنے کے معاملے پر کڑی تنقید کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تعلق رکھنے گروپوں نے کیا تھا۔

اس نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ انقرہ میں آسٹریا کے سفیر کو طلب کیا جائے گا اور انھیں ترکی کی تشویش کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔اس نے آسٹریا کی سکیورٹی فورسز پر کردوں کے بجائے ترک مظاہرین سے سخت برتاؤ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ادھر آسٹریا کی وزارت خارجہ نے بھی آج ویانا میں متعیّن ترک سفیر کو طلب کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آسٹروی پولیس کے مطابق گذشتہ بدھ کو ترک مظاہرین کی کرد مجمع کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی تھی۔ کرد مظاہرین نے جمعرات اور جمعہ کو بھی مظاہرے کیے تھے اور ان کی ترک مظاہرین سے جھڑپیں ہوئی تھیں۔مظاہرین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا تھا اور پٹاخے پھینکے تھے۔انھوں نے پولیس پر بھی لوہے کے راڈوں سے حملے کیے تھے۔

آسٹروی وزیر داخلہ کارل نہمر نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ’’ترک تنازع کا آسٹروی سرزمین پر کھیل بالکل ناقابل قبول ہے۔‘‘انھوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں ہی نے پولیس پر حملے کیے تھے۔

انھوں نے کہا’’ہم باریک بینی سے اس امر کا جائزہ لیں گے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران میں کس فریق نے کشیدگی کا آغاز کیا تھا۔یہ بالکل ناقابل قبول ہوگا،اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ انقرہ کے احکامات پر ترک گروپ آسٹریا میں عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں۔‘‘

وزیر داخلہ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے الزام میں گیارہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور سات پولیس افسر زخمی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ آسٹریا میں ترک نسل کے افراد بڑی تعداد میں آباد ہیں لیکن ملک کے قدامت پسند چانسلر سیبسٹین کرز ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں۔

یاد رہے کہ پی کے کے نے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں خود مختاری کے حصول کے لیے 1984ء سے مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے۔اس لڑائی میں 45 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ترکی کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ ایران نے بھی اس کرد ملیشیا کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔