.

ترکی لیبیا میں مجرمانہ اور تاریخی جرائم کا ذمہ دار ہے: ماکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے کہا ہے کہ لیبیا کے مسئلے میں مداخلت کرنے والی سب سے بڑی طاقت ترکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لیبیا کی سرزمین پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار ترکی ہے۔ ترکی کو لیبیا میں سنگین جرائم کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

فرانسیسی صدر نے جرمن چانسلر انجیلا میرکل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انقرہ کو لیبیا میں اپنی پالیسی کی وضاحت کرنی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو لیبیا میں اجرتی جنگجو بھیجنا پڑوسی ممالک اور یورپ کے لیے متعدد خطرات کا باعث ہے۔

خیال رہے کہ شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمٰن نے کہا ہے کہ لیبیا میں شامی جنگجوئوں کی تعداد 15،000 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا سے واپس آنے والے کچھ جنگجوئوں نے بتایا کہ سرت اور تیل کے وسائل والے علاقوں میں ترکی ایک بڑے آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔

رامی عبد الرحمٰن نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ کچھ اجرتی جنگجو چھٹیوں پر لیبیا سے شام لوٹے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت ترکی کی زیرقیادت فوجی آپریشن کے لیے تیار ہے۔

واپس آنے والے جنگجوئوں کا کہنا ہے کہ ترکی لیبیا میں تیل کے وسائل سے مالا مال علاقوں میں اپنی فوج داخل کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ جنگجوئوں کا کہنا ہے کہ اگر ترکی لیبیا میں تیل کے وسائل کاکنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ان کے ساتھ مالی مدد کے وعدے پورے کیے جائیں گے۔