.

دبئی پراپرٹی :کرونا وَبا کے دوران میں ولاز کے خریداروں اور کرایوں میں نمایاں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی میں کرونا وائرس کی وَبا کے دوران میں ولاز کے خریداروں یا انھیں کرائے پر لینے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے پراپرٹی پورٹل بیوت کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق فروری اور مارچ میں فروخت کے لیے تیار ولاز میں خریداروں کی دلچسپی میں 42۰6 اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔اپریل میں ولاز کی تلاش میں سرگرداں افراد کی تعداد میں 25۰6 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

بیوت کے مطابق یہ بات بالکل قابل فہم ہے کہ ان ولاز کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کرنے والے گاہکوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ ذاتی لحاظ سے کھلی جگہوں کے ساتھ اقامت کا ایک محفوظ انتظام چاہتے ہیں۔

امارات کے حکام کرونا وائرس کی وَبا کے مہلک اثرات کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں اور انھوں نے قومی معیشت کی ترقی کے لیے کئی ایک ترغیبات متعارف کرائی ہیں۔تجزیہ کاروں اور مبصرین نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ کووِڈ-19 کے بحران کے خاتمے کے ساتھ ہی یو اے ای ایک بہتر پوزیشن میں ہوگا۔

بیوت کا کہنا ہے کہ خریدار دوست ماحول کی وجہ سے لوگ فروخت کنندگان سے زیادہ بہتر قیمت پر سودے طے کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔اس کی رپورٹ کے مطابق خریدار عربیئن رانچز ، دا ولا اور پام جمائرہ میں واقع ولاز کی خریداری میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں۔اپنے ذاتی گھر کے مالک بننے کے خواہاں خریدار 24لاکھ درہم (654000 ڈالر) تک فروخت کے لیے دستیاب ولاز کی تلاش میں ہیں۔

مارچ اور اپریل میں 30 سے 80 لاکھ درہم مالیت کی مہنگی جائیدادوں کی خرید میں دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے۔کرائے پر ولا لینے کے خواہاں کرایہ داروں کی شرح میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بالترتیب 13۰1 اور 11۰4 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔کرایہ دار بالعموم خاندان دوست علاقوں میں ایک لاکھ 20 ہزار درہم سے کم کرائے والے مکانوں کی تلاش میں سرگرداں دیکھے گئے ہیں۔ایسے علاقوں میں میردیف ، جمائرہ ، عکویا ، آکسیجن اور عربیئن رانچز شامل ہیں۔

اپارٹمنٹوں کی قیمتِ فروخت میں اضافہ مگرکرایوں میں کمی

کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں دبئی میں واقع اپارٹمنٹوں کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خریداروں نے ولاز کے مقابلے میں کم قیمت اپارٹمنٹوں کی خرید میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔بیوت کے مطابق مارچ میں ان اپارٹمنٹوں کی خرید میں اظہار دلچسپی کرنے والوں میں 4 فی صد اور اپریل میں 9۰4 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے دبئی میرینا ، ڈاؤن ٹرن دبئی اور جے وی سی میں 6 لاکھ درہم سے کم قیمت میں اپارٹمنٹس کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

تاہم بیوت کا کہنا ہے کہ اپارٹمنٹوں کو کرائے پر حاصل کرنے والوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ کمی واقع ہوئی ہے۔ دبئی میں مارچ میں کرائے کے لیے اپارٹمنٹس کی تلاش کرنے والوں کی تعداد میں 2۰2 فی صد اور اپریل میں 8۰9 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

ممکنہ کرایہ داروں کو جے وی سی ، دبئی میرینا اور النہضہ میں 45 سے 65 ہزار درہم کے درمیان مناسب یونٹوں کی تلاش تھی۔

بیوت نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ مالکانہ حقوق پر مکان خرید کرنے کے خواہاں افراد ایسے ولاز یا اپارٹمنٹوں کی تلاش میں ہیں، جن میں ان کی نجی زندگی کا تحفظ ہو،وہ کھلے ، ہوا دار ہوں اور ان کے ساتھ باغیچے ہوں یا وہ بیچ کنارے واقع ہوں تاکہ وہ ان کے جمالیاتی ذوق کو بھی جلا بخشیں۔