.

لیبیا میں ترکی کے اجرتی جنگجوئوں کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمٰن نے کہا ہے کہ لیبیا میں شامی جنگجوئوں کی تعداد 15،000 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا سے واپس آنے والے کچھ جنگجوئوں نے بتایا کہ سرت اور تیل کے وسائل والے علاقوں میں ترکی ایک بڑے آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔

رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ لیبیا میں لڑائی کےبعد 3200 جنگجو واپس آئے ہیں۔ تاہم ترکی شام سے مزید جنگجوئوں کو لیبیا میں لڑائی کے لیے بھرتی کررہا ہے۔

رامی عبد الرحمٰن نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ کچھ اجرتی جنگجو چھٹیوں پر لیبیا سے شام لوٹے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت ترکی کی زیرقیادت فوجی آپریشن کے لیے تیار ہے۔

واپس آنے والے جنگجوئو کا کہنا ہے کہ ترکی لیبیا میں تیل کے وسائل سے مالا مال علاقوں میں اپنی فوج داخل کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ جنگجوئوں کا کہنا ہے کہ اگر ترکی لیبیا میں تیل کے وسائل کاکنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ان کے ساتھ مالی مدد کے وعدے پورے کیے جائیں گے۔

رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ لیبیا میں جاری لڑائی میں جھونکنے کے لیے ترکی نے 18 سال سے کم عمرکے300 بچوں کو بھی بھرتی کرنے کے بعد انہیں تربیت دینا شروع کررکھی ہے۔