.

ٹرمپ کو کرونا وائرس سے متاثر ہونے سے کس طرح بچایا جاتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کرونا وائرس کی لپیٹ میں آنے کی صورت میں بہت ممکن ہے کہ وہ موت کا شکار ہو جائیں۔ واضح رہے کہ 190 سینٹی میٹر قد رکھنے والے 74 سالہ ٹرمپ موٹاپے کا شکار ہیں۔ ان کا وزن 110 کلو گرام ہے۔ اس طرح وہ کرونا وائرس کے لیے مرغوب وجود کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جی ہاں وہ وائرس جس نے اب تک دنیا بھر میں پانچ لاکھ افراد کی جانوں کو نگل لیا ہے۔ موت کے منہ میں جانے والوں میں بڑی تعداد زیادہ عمر کے افراد اور موٹے لوگوں کی ہے۔ لہذا امریکی حکام نے صدر ٹرمپ کی کرونا سے حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں۔

امریکی صدر بنیادی نوعیت کے حفاظتی اقدامات اور تدابیر کو مسترد کرتے ہیں جن میں اہم ترین "چہرے پر ماسک لگانا" ہے۔ نیوز چینل CNN نے دو روز قبل بتایا کہ جب صدر ٹرمپ امریکا میں کسی علاقے کا دورہ کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں تو ان کے پہنچنے سے قبل سیکورٹی اور طبی ٹیمیں ان علاقوں کی اچھی طرح چھان پھٹک کرتی ہیں۔ ان ٹیموں کے اہل کار اس علاقے کو یہاں تک کہ صدر کی جانب سے ممکنہ طور پر استعمال ہونے والے بیت الخلاء اور اس میں نصب ساز و سامان کو بھی اچھی طرح صاف کرتی ہیں اور پھر سینیٹائز کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان اس جگہ سے براہ راست رابطہ رکھنے والے ہر شخص کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس دوران صدر سے صرف وہ افراد ہی ملاقات کر سکتے ہیں جن کا پیشگی طور پر کرونا کا معائنہ ہو چکا ہو۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایک مرتبہ ٹرمپ شدید غصے میں آ گئے جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کے کھانے پینے کا ذمے دار ایک عسکری عہدے دار کرونا کے متعدی وائرس سے متاثر ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے ٹرمپ نے استفسار کیا تھا کہ وہ عہدے دار اس حد تک قریبی رابطے کا مرتکب کیسے ہوا کہ خود ہی وائرس سے متاثر ہو گیا۔

کرونا وائرس امریکی صدر کی روز مرہ کی زندگی میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ پولینڈ کے صدر "اینڈجی ڈوڈو" وہ پہلے غیر ملکی صدر تھے جن سے ٹرمپ نے کئی ماہ بعد بدھ کے روز ملاقات کی۔ امریکا کے دورے پر آئے پولش صدر اور ان کے ہمراہ وفد کا پہلے کرونا ٹیسٹ ہوا اور پھر اچھی طرح طبی معائنہ کیا گیا۔ اس کے بعد ان کو وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی اجازت ملی۔

ٹرمپ کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ وہ "کسی بھی نوعیت کے مرض کو انتہائی ناپسند کرتے ہیں"۔ وہ کرونا کے ظہور سے قبل بھی اپنے سامنے چھینکنے والے مشیروں کی سرزنش کر چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں کرونا وائرس سے متعلق جوابی رابطہ کار ڈاکٹر Debora Birx نے رواں سال مارچ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وہ بخار میں مبتلا ہیں لہذا خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیں گی۔ اس دوران ساتھ کھڑے ٹرمپ تیزی سے ڈیبورا سے دور ہو گئے اور پھر مصنوعی مزاح کا اظہار کرتے ہوئے واپس اپنی جگہ پر لوٹ آئے جب کہ وہ اس وقت سنجیدہ تھے۔

اتوار کے روز صحت اور انسانی خدمات کے لبنانی نژاد امریکی وزیر ایلکس عازار امریکی ٹی وی چینل NBC کی اسکرین پر نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ "صدر ٹرمپ کے لیے حالات منفرد ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حکومت شہریوں پر ماسک لگانے پر زور دے رہی ہے اس کے باوجود ٹرمپ ماسک نہیں لگاتے۔ امریکی وزیر کے مطابق صدر ٹرمپ "اپنی انتظامیہ کی ہدایت پر عمل کرنے پر مجبور نہیں اس لیے کہ آزاد دنیا کے قائد ہونے کے طور پر ان کا باقاعدگی کے ساتھ ٹیسٹ ہوتا ہے .. ان کے حالات بقیہ تمام لوگوں سے مختلف ہیں"۔

واضح رہے کہ حفاظتی ماسک لگانے کے حوالے سے ٹرمپ کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں پارٹیوں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔