.

ایران کی جوہری تنصیب میں دھماکا،سینٹری فیوج کا نیا پلانٹ نشانہ بنا: امریکی تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی نطنز میں واقع زیر زمین جوہری تنصیب کے اوپر جمعرات کو ایک دھماکا ہوا ہے اور پھر آگ بھڑک اٹھی ہے۔امریکا سے تعلق رکھنے والے اداروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس جگہ دھماکا ہوا ہے ،یہ سینٹری فیوج کی پیداوار کا نیا پلانٹ ہے۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال آفندی نے اس واقعے کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے صرف ایک زیر تعمیر ’’ صنعتی شیڈ‘‘ متاثر ہوا ہے۔تاہم کمال آفندی اور ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی آتش زدگی کے فوری بعد نطنز روانہ ہوگئے تھے۔اس تنصیب کو ماضی میں بھی تخریب کاری کی مہموں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔اس کے کمپیوٹر نظام پر خطرناک وائرس سے حملے کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عاید کیا گیا تھا۔

کمال آفندی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آگ سے عمارت کو کیا نقصان پہنچا ہے۔نطنز کے گورنررمضان علی فردوسی نے صرف اتنا کہا ہے کہ اس جگہ کو آگ لگ گئی تھی۔ البتہ ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے ایک تبصرہ شائع کیا ہے کہ یہ اسرائیل اور امریکا ایسے دشمن ممالک کی تخریبی کارروائی ہوسکتی ہے۔

اس تبصرے میں کہا گیا ہے کہ’’اسلامی جمہوریہ ایران نے بحرانوں کو شدید اور حالات کو ناقابل پیشین گوئی ہونے سے بچانے کی کوشش کی ہے لیکن صہیونی نظام اور امریکا ایسے ممالک کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی سرخ لکیروں کو عبور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔‘‘

ایران کی جوہری توانائی ایجنسی نے بعد میں ایک تصویر جاری کی ہے۔اس کے علاوہ سرکاری ٹی وی کی جاری کردہ ویڈیو میں اینٹوں سے بنی ایک عمارت میں سیاہ نشانات دیکھے جاسکتے ہیں اور اس کی چھت اڑی ہوئی ہے،اس کا ملبہ زمین پر ہے، دروازہ اکھڑ اور ٹوٹ چکا ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمارت میں دھماکے کے بعد آگ لگی تھی۔

دوسری جانب امریکا کی نیشنل اوشیانک ایٹ ماسفیئرک انتظامیہ کے خلائی سیارے سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق جمعرات کو علی الصباح مقامی وقت دو بجے کے قریب نطنز کمپاؤنڈ کے شمال مغربی حصے کو آگ لگی تھی اور اس کے شعلے ایسے روشن تھے کہ خلا سے سیٹلائٹ کے ذریعے ان کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔

کمال آفندی نے بعد میں ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ (آگ لگنے سے)’’مادی اور مالی نقصان ہوا ہے اور ہم اس کا اندازہ لگانے کے لیے تحقیقات کریں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ’’ خدا کا شکر ہے یورینیم کو افزودہ کرنے کی تنصیب کے کام میں کوئی رخنہ نہیں آیا ہے اور اس جگہ پہلے کی طرح کام جاری ہے۔‘‘

امریکا کے انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس اور بین الاقوامی سلامتی کے ایک ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ نئے پلانٹ کی پیداواری تنصیب میں آگ لگی تھی۔ ان کے ادارے نے قبل ازیں ایک رپورٹ میں اس پلانٹ کا ذکر کیا تھا اور اس کی تعمیر کے وقت خلائی سیارے کی تصاویر کی مدد سے شناخت کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ایران نے قبل ازیں صوبہ اصفہان میں واقع نطنز میں سینٹری فیوجز کی تنصیب میں کسی نئے تعمیراتی کام سے متعلق کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا تھا۔دارالحکومت تہران سے قریباً ڈھائی سو کلومیٹر جنوب میں واقع نطنز میں یورینیم کو افزودہ کرنے کا زیر زمین بڑا مرکز ہے۔یہ سطح زمین سے پچیس فٹ گہرائی میں کنکریٹ سے بنا ہوا ہے اور اس وجہ سے اس کو فضائی حملوں سے تحفظ مہیا کیا جاسکتا ہے۔

ویانا میں قائم جوہری توانائی کا عالمی ادارہ ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت اس تنصیب کی بھی نگرانی کررہا ہے۔اس ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’وہ نطنزمیں آگ سے متعلق اطلاعات سے آگاہ ہے اور ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ اس سے آئی اے ای اے کی ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تصدیقی سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘