.

سعودی عرب کی انسانی حقوق کونسل میں تقرر سے خواتین بااختیار ہوں گی: صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی انسانی حقوق کونسل (ایچ آر سی) میں خواتین ارکان کا تقرر ملکی قیادت کے انسانی حقوق کی بالادستی کے لیے کوششوں سے عین مطابقت کا حامل ہے۔ یہ بات ایچ آر سی کے صدر عواد العواد نے جمعرات کو ایک بیان میں کہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کونسل کے بورڈ میں تیرہ خواتین کا تقرر سعودی قیادت کی صنف نازک کو بااختیار بنانے کی کاوشوں کا تسلسل ہے۔ان کا مقصد خواتین کو مختلف شعبوں میں قیادت کے مناصب پر فائز کرنے کا اہل بنانا ہے۔

کونسل میں خواتین کی تعداد کل ارکان کا نصف ہے۔سعودی عرب نے حالیہ برسوں کے دوران میں صنفی مساوات کے لیے بہت سے اہم اقدامات کیے ہیں۔

عالمی بنک کی اسی سال جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی معیشت نے 2017ء کے بعد سے عالمی سطح پر صنفی مساوات کے لیے بڑی پیش رفت کی ہے اور اس نے خواتین کی نقل وحرکت ، جنسی ہراسیت کے خاتمے ،ریٹائرمنٹ کی عمر اور اقتصادی سرگرمیوں میں ان کی شرکت کے حوالے سے کئی ایک اقدامات کیے ہیں۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 2018ء میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے خواتین کے کاریں چلانے پر عاید پابندی ختم کردی تھی۔

اگست 2019ء میں سعودی عرب نے 21 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو اپنے کسی مرد ولی کے بغیر بیرون ملک جانے اور پاسپورٹ حاصل کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

سعودی عرب میں یہ اصلاحات ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ء کے تحت کی جارہی ہیں۔اس منصوبے کا مقصد تیل کی دولت پر انحصار کم کرنے کے لیے سعودی معیشت کو متنوع بنانا اور خواتین کی ملک کی افرادی قوت میں شمولیت ہے۔