.

عالمی ادارہ صحت میں خدمات انجام دینے والی سعودی ماہرامراض حنان بلخی کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت میں دس سال سے ایک ماہر امراض کےطور پرخدمات انجام دی نے والی سعودی عرب کی خاتون ڈاکٹر حنان حسن بلخی طویل عرصے تک مملکت اورخلیجی ممالک میں بھی طب کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انہوں نے بچوں کی متعدی بیماریوں سے متعلق دوائی کی تیاری میں مہارت حاصل کی۔ خلیجی سنٹر برائے انفیکشن کنٹرول، ان کوپریٹو سنٹر برائے انفیکشن کنٹرول میں سعودی عرب میں بیس سال اور اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے عالمی ادارہ برائے صحت میں خدمات ان جام دے رہی ہیں۔

حنان نے سارس ، برڈ فلو اور کرونا جیسی بڑی وبائی بیماریوں کے انفیکشن کنٹرول میں عوام کی رہ نمائی کی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کی۔

ڈاکٹر حنان حسن بلخی کو اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے لئے عالمی ادارہ صحت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر عالمی ادارہ صحت نے منتخب کیا۔

اپنی پہلی سائنسی تحقیق کے بارے میں انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "میں نے 1997 میں امریکا میں گہرائی کے ساتھ طب کے شعبے میں م اوہائیو کے کیس ویسٹرن ریزرو میں تحقیق کا آغاز کیا۔ یہ ادارہ امریکا کے مشہور ترین تحقیقی مراکزمیں سے ایک ہے ، جسے ہاٹ اسپاٹ تحقیق میں سرخیل سمجھا جاتا ہے۔ میں نے ایک لیبارٹری میں سالمونلا انفیکشن اور اس کے اثرات کے مطالعہ میں مہارت کے لیے تحقیق شروع کی اور جانوروں کے ماڈل کو تحقیق کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب میں 1999 میں سعودی عرب واپس آئی تو سائنسی لیبارٹری کی تحقیق کا کوئی راستہ نہیں تھا جب میں نےسنہ 2007ء میں نیشنل گارڈ کی وزارت میں ایک تحقیقی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو مجھے اس ادارے کو سنھبالنے کی پیش کش کی گئی۔ یہ پیش کش میرے لیے ایک اعزاز تھا۔

ہمارا مقصد طبی سائنسی تحقیق کے لیے محققین کو تیار کرنا اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔ تاکہ سعودی عرب میں بھی طب کے میدان میں باقاعدگی کے ساتھ کام شروع کیا جاسکے۔

متعدی بیماریوں کے انسداد ک تحقیق

ڈاکٹر حنان بلخی نے اسپتالوں میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ ، مریض پر اینٹی بائیوٹک مزاحم بیکٹیریا کے بوجھ اور صحت کے نظام پر تحقیق شائع کی ہے۔

اس کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ مُجھے وبائی امراض اور ان میں پھیلنے کی صلاحیت ، اور ان پر قابو پانے کے امکانات اور طریقوں سے بڑی دلچسپی تھی۔ لہذا میں نے میرس وبائی بیماری کا مطالعہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ سنہ 2015 میں یہ وبا کیسے پھیلی۔ تحقیق کے علاوہ میں نے وزارت زراعت میں اپنے ساتھیوں کے تعاون سے کیا جس میں میرس کرونا شامل تھے۔ میری رائے کے لحاظ سے سب سے اہم تحقیق میرس کرونا شیڈو باکس سیرم کے ابتدائی مطالعہ میں میری شرکت ہے ، جسے محقق نائف الحربی نے آکسفورڈ لیبارٹریوں میں تیار کیا تھا۔ کنگ عبد اللہ انٹرنیشنل ریسرچ سینٹر اور وزارت ماحولیات ، پانی و زراعت کے تعاون سے سعودی عرب میں ایک جانور کے ماڈل پر مطالعات کا دوبارہ آغاز کیا گیا۔

عالمی صحت میں کام کرنا

اپریل 2019 میں ، سعودی وزیر صحت نے بلخی کو اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل نامزد کیا۔