.

الامارات:ایک ارب 90 کروڑ درہم مالیت کے ٹکٹوں کی واپسی کے لیے ساڑھے 6 لاکھ درخواستیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کی ملکیتی فضائی کمپنی الامارات ائیرلائنز نے کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد گذشتہ دوماہ میں ایک ارب 90 کروڑ درہم مالیت کے ٹکٹوں کی واپسی کے لیے ساڑھے 6 لاکھ درخواستیں نمٹائی ہیں۔

الامارات (ایمریطس) نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس کو اپریل میں رقوم کی واپسی کے لیے پانچ لاکھ کے لگ بھگ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔اس نے تب کہا تھا کہ ان درخواست گزار مسافروں کے ٹکٹوں کی رقوم کی واپسی کے لیے وہ اپنے نقدی ذخائر کو استعمال کرے گی۔نیز پہلے سے جمع شدہ درخواستوں کو تیزی سے نمٹانے کے لیے اقدامات کرے گی۔

کمپنی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اب وہ ایک ماہ میں اوسطاً قریباً دو لاکھ درخواستیں نمٹا رہی ہے۔امارات کے چیف کمرشل آفیسر عدنان کاظم نے بیان میں کہا ہے:’’کوئی بھی اس بات کی توقع نہیں کررہا تھا کہ اس وَبا کے مسافروں پر اس قدر اثرات مرتب ہوں گے۔ائیرلائن اور سفری صنعت یوں بری طرح متاثر ہوگی۔یہ ہر کسی کے لیے مشکل وقت ہے لیکن ہم اپنے صارفین کے لیے جو بہتر اور اچھا ہے، وہ کرنے کے لیے عزم مصمم رکھتے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اسی بات کے پیش نظر ہم نے رقوم کی واپسی کا عمل تیز کرنے کے لیے وسائل مہیا کیے ہیں۔ہمارا رقوم کی واپسی کا اوسط وقت اب 90 دن سے کم ہوکر 60 دن رہ گیا ہے۔ اگر نئی درخواستوں کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے تو اس شرح میں مزید بہتری آئے گی۔‘‘

عدنان کاظم کا کہنا تھا کہ الامارات کے پاس اس وقت رقوم کی واپسی کے لیے پانچ لاکھ سے زیادہ درخواستیں زیر التوا ہیں لیکن توقع ہے کہ آیندہ دو ماہ میں یہ تمام کی تمام نمٹا دی جائیں گی۔

امارات نے گذشتہ اتوار کو 7جولائی سے 50 سے زیادہ مقامات کے لیے پروازیں چلانے کا اعلان کیا تھا۔اماراتی حکام کے ایک اعلان کے مطابق دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد یا سیاح اس تاریخ سے دبئی میں سیروسیاحت یا کاروباروں کے سلسلے میں آسکیں گے۔

تاہم اماراتی حکومت نےایسے بین الاقوامی مسافروں کے لیے رہ نما ہدایات جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ’’ایسے مسافروں کو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت کی جاری کردہ پیشگی حفاظتی تدابیر کی پابندی کرنا ہوگی۔دبئی آنے والے افراد کو صحت کی ایک بین الاقوامی بیمہ پالیسی پیش کرنا ہوگی۔اس میں کرونا وائرس کی بیماری کا احاطہ ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ ان مسافروں کے کووِڈ-19 کے حالیہ ٹیسٹ کے نتائج اورمکمل صحت کا اعلامیہ فارم ان کے پاس ہونا چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ یو اے ای کی حکومت نے کرونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے 23 مارچ کو تمام مسافر اور ٹرانزٹ پروازوں کی ملک میں آمد ورفت پر پابندی عاید کردی تھی۔

الامارات کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے قبل دنیا کے 83 ممالک میں 157 مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی تھی۔ اس نے مارچ میں بیشتر پروازیں معطل کرنے کے بعد طیارے گراؤنڈ کردیے تھے اور صرف چند ایک مقامات کے لیے محدود پیمانے پر پروازیں چلاتی رہی ہے۔