.

افغانستان: سابق وار لارڈ عبدالرشید دوستم کی "مارشل" کے عہدے پر ترقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے سابق وار لارڈ عبدالرشید دوستم کو ترقی دے کر اسے افغان فوج کے اعلی ترین منصب "مارشل" سے نواز دیا ہے۔ اس سلسلے میں ذمے داران نے جمعے کے روز بتایا کہ دوستم سے قبل ملکی تاریخ میں صرف دو شخصیات اس عالی عسکری منصب پر پہنچ پائی تھیں۔ واضح رہے کہ دوستم پر کئی جرائم اور شرم ناک کارروائیوں کے ارتکاب کے الزامات ہیں۔

افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے ملک کا اعلی ترین عسکری منصب پانے پر دوستم کو مبارک باد پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوستم کو مارشل کے مرتبے پر فائز کرنا یہ اُن ہزاروں مجاہدین کی قربانیوں کا اعتراف ہے جنہوں نے گزرے برسوں کے دوران ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں اور زخمی ہوئے۔

یاد رہے کہ 66 سالہ عبدالرشید دوستم 2015 سے 2019 کے درمیان افغان صدر اشرف غنی کا حلیف اور ان کا نائب رہا۔ تاہم پھر دوستم نے حسب عادت اپنی وفاداری تبدیل کر لی اور 2019 کے اواخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں عبداللہ عبداللہ کی حمایت کی۔ رواں سال مارچ میں اشرف غنی اور عبداللہ عبدللہ دونوں کی جانب سے صدارتی انتخابات جیتنے کے اعلان کے بعد ملک میں آئینی بحران نے جنم لے لیا۔ یہ صورت حال مئی تک جاری رہی جب دونوں شخصیات نے اقتدار اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کر دیے۔ معاہدے کے تحت اشرف غنی کو کرسی صدارت پر برا جمان رہنا تھا اور اس کے مقابل عبداللہ عبداللہ کو افغان طالبان تحریک کے ساتھ مذاکرات کے معاملے کی نگرانی کرنا تھی۔ اسی طرح اقتدار کی تقسیم کے سمجھوتے میں عبدالرشید دوستم کو مارشل کے منصب پر ترقی دیے جانے کی شق میں شامل کی گئی۔

دوستم کا شمار نمایاں ترین ازبک کمانڈروں میں ہوتا ہے۔ وہ سیاست میں اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے اور جنگوں میں اپنے وحشیانہ پن کے سبب معروف ہے۔ دوستم پر جنگی جرائم کے ارتکاب کے بھی الزامات ہیں۔ ان میں اہم ترین وہ قتل عام تھا جب 2001 میں کارگو کنٹینروں کے اندر موجود طالبان تحریک کے تقریبا دو ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کار سید ناصر موسوی کے مطابق گذشتہ چار دہائیوں کے دوران جو لوگ بھی افغان تنازع میں شریک رہے ان کی اپنی مسلح ملیشیا تھی۔ طالبان کے بعد انسانی حقوق سیاست کا شکار ہوئے۔

دوستم پر 2016 میں الزام عائد کیا گیا کہ اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ اس کے ایک سیاسی حریف کو اغوا کر کے اسے بندوق کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنایا جائے۔ بعد ازاں مئی 2017 میں دوستم علاج کی غرض سے سرکاری طور پر ترکی چلا گیا۔ جولائی میں وہ واپس آیا تو کابل کے ہوائی اڈے پر خود کش بم بار اس کے انتظار میں تھا۔ دھماکا ہوا مگر ازبک لیڈر محفوظ رہا۔ واقعے میں 23 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں