.

امریکا کے دو طیارہ بردار بحری بیڑوں کی چین کے جنوبی سمندر میں فوجی مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے دو طیارہ بردار بحری بیڑوں نے چین کے جنوبی سمندر میں فوجی مشقیں کی ہیں۔ان مشقوں سے قبل امریکا کے محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے چینی فوج کی ایک متنازع جزیرے کے ارد گرد مشقوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ یو ایس ایس نیمز اور یو ایس ایس رونلڈ ریگن نے ایک آزاد اور کھلے انڈو۔پیسیفک کی حمایت میں پانیوں میں مشقیں کی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ یہ کوششیں امریکا کی تمام اقوام کے بین الاقوامی قانون کے مطابق طیارے اڑانے اور سمندر میں جہاز چلانے کی حمایت کا مظہر ہیں۔‘‘

قبل ازیں پینٹاگان نے چینی فوج کی چین کے جنوبی سمندر میں فوجی مشقوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ ان مشقوں سے خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا۔

چین کی متنازع پانیوں میں موجودگی پر اس کے متعدد ہمسایہ ممالک نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکانے پارسل جزائر سمیت اس علاقے پرچین کے علاقائی ملکیت کے دعووں کو مسترد کردیا ہے۔یہ متنازع علاقے چین اور دوسرے ممالک کے درمیان کشیدگی کا موجب ہیں۔چین یہاں پانچ جولائی اتوار تک فوجی مشقیں کررہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے خطے میں صورت حال مزید عدم استحکام کا شکار ہوگی۔اس علاقے پر چین ، ویت نام اور تائیوان تینوں ہی دعوے دار ہیں۔

لیکن چین نے اس تنقید کو مسترد کردیا ہے۔اس نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ یہ فوجی مشقیں چین کی علاقائی خود مختاری کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔‘‘

امریکا بھی چین کے جنوبی سمندر میں نام نہاد آزادی کے نام پر فوجی مشقیں کرتا رہتا ہے اور امریکی بحریہ بھی گاہے گاہے طیارہ بردار بحری جہاز پارسل کے علاقے میں روانہ کرتی رہتی ہے۔اس علاقے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں تیل اور گیس کے بڑے وسیع ذخائر موجود ہیں۔

اپریل میں چین کے ایک جہاز نے ان جزائر کے نزدیک ویت نام کے مچھیروں کی ایک کشتی کو ڈبو دیا تھا۔اس واقعے کے بعد دونوں ملکوں میں موجود کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں