.

کرونا سے نکلنے کے لیے سائنس پُل کا درجہ رکھتی ہے: یونیسکو میں سعودی خاتون مندوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تعلیم ، سائنس اور ثقافت سے متعلق اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو کی مجلس عاملہ کا 209 واں اجلاس جمعے کے روز پیرس میں تنظیم کے صدر دفتر میں شروع ہوا۔

اجلاس میں سعودی عرب کی نمائندگی یونیسکو میں مملکت کی مستقل خاتون مندوب شہزادی ہیفاء بنت عبدالعزیز آل مقرن کر رہی ہیں۔ ان کے ہمراہ موجود ورکنگ ٹیم میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سعودی مرد اور خواتین ماہرین شامل ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہزادی ہیفاء کا کہنا تھا کہ " تغیرات کا مقابلہ عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے. اس طرح اقوام کے درمیان امن ، ان کے بیچ ثقافتی رابطوں کے قیام اور معاشروں کو با اختیار بنانے کے حوالے سے مشترکہ کوششوں کو کامیابی سے ہم کنار کیا جا سکتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگرچہ ہماری ثقافت اور ہماری زبان مختلف ہے تاہم ہم اپنے اس یقین میں ایک دوسرے کو شریک کر رہے ہیں کہ تعلیم کا حصوصل سب کا حق ہے اور اپنے ورثے کی حفاظت کا مطلب اپنے مستقبل کا تحفظ ہے، ایجاد اور سائنس وہ پُل ہے جس کے ذریعے ہم اس وبا سے نکل سکیں گے جس کا آج ہماری دنیا کو سامنا ہے"۔

شہزادی ہیفاء نے باور کرایا کہ سعودی عرب ہمیشہ سے افریقی ممالک کی سپورٹ کرتا رہا ہے اور اس بات کو بھی واضح کرتا رہا ہے کہ وہ یونیسکو کے مختلف شعبوں میں اپنے تجربات کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔

یونیسکو کی مجلس عاملہ کا رکن ملک ہونے کی حیثیت سے سعودی عرب اس اجلاس میں شرکت کر رہا ہے جو 11 روز تک جاری رہے گا۔ اس دوران تعلیم، سائنس اور ثقافت کے شعبوں سے متعلق تمام بین الاقوامی معاملات کو زیر بحث لایا جائے گا۔ ان امور کا جائزہ لے کر ان کے حوالے سے فیصلے ہوں گے اور پھر قرار دادوں پر رائے شماری عمل میں آئے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں