.

بھارتی ریاست ناگا لینڈ میں کتے کے گوشت کی خرید وفروخت پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی شمال مشرقی ریاست ناگا لینڈ میں حکام نے کتے کے گوشت کی خرید وفروخت پر پابندی عاید کردی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ کتوں کو انسانی خوراک کے طور پر استعمال کرنے کے لیے ان کی درآمد اور تجارت بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔

ناگا لینڈ کے ریاستی سیکرٹری تیمگین ٹائے نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے کتوں کی ہر طرح کی درآمد اور تجارت کے ساتھ ساتھ ان کے پکے اور کچے گوشت کی فروخت پر بھی پابندی عاید کردی ہے۔

اپوزیشن رہنما مانیکا گاندھی کی طرف سے رواں ہفتے کے آغاز میں ایک اپیل کی گئی تھی، جس میں ناگا لینڈ کی حکومت سے ریاست میں کتوں کے گوشت پر پابندی پر زور دیا گیا تھا۔ مانیکا کی طرف سے یہ اپیل اس وقت کی گئی تھی جب انہوں نے ناگا لینڈ میں قائم جانوروں کے تحفظ کی ذمہ دار تنظیم سے کتے کے کاروبار کی نئی تصاویر موصول ہوئی تھیں۔

اس اپیل کے بعد تقریبا سوا لاکھ لوگوں نے ریاست میں کتے کے گوشت اور اس کے خوراک کے طور پر استعمال کرنے پرپابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ہیومن سوسائٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام ہندوستان میں کتے کے گوشت کے پوشیدہ کاروبار کو ختم کرنے کی طرف ایک اہم موڑ ہے۔

تنظیم کا اندازہ ہے کہ سالانہ 30،000 کتوں کو ناگا لینڈ میں اسمگل کیا جاتا ہے۔ کتوں کو مویشی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کتوں کو لاٹھیاں برسا کر بے دردی سے ہلاک کیا جاتا ہے۔