.

بھارت اور چین کوہِ ہمالیہ پرواقع متنازع سرحدی علاقے میں مرحلہ وار کشیدگی کے خاتمے پرمتفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت اور چین نے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد کوہِ ہمالیہ پر واقع متنازع سرحدی علاقے میں حالیہ ہلاکت آفرین جھڑپوں کے بعد مرحلہ وار کشیدگی کے خاتمے سے اتفاق کیا ہے۔

بھارتی فوج کے ذرائع کے مطابق اس اتفاق رائے کے بعد چینی فوجی ہمالیہ پر واقع وادیِ گلوان سے اپنے ڈھانچے کو ہٹاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ لداخ میں واقع وادی گلوان میں 15 جون کو چینی اور بھارتی فوجیوں میں دو بدو لڑائی ہوئی تھی اور اس میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک اور 70 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔چین نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ اس کا لڑائی میں جانی نقصان ہوا ہے لیکن اس نے مہلوکین یا زخمیوں کے کوئی اعداد وشمار جاری نہیں کیے تھے۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ طرفین نے اتوار کو سرحد سے پیچھے ہٹنے سے اتفاق کیا تھا۔ نیز بھارت اور چین کے سرحدی علاقوں میں مرحلہ وار کشیدگی ختم کی جائے گی۔

چین کے نمایندے اور وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ بیجنگ اپنی علاقائی خود مختاری کا دفاع کرے گا جبکہ وہ سرحدی علاقوں میں امن کو بھی برقرار رکھے گا۔

قبل ازیں بھارتی فوج کے ایک ذریعے نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے فوجی وادیِ گلوان میں خیموں اور ڈھانچے کو اکھاڑتے ہوئے دیکھے گئے ہیں اور فوجی گاڑیوں کو بھی پیچھے ہٹا لیا گیا ہے۔

اس ذریعے کا کہنا ہے کہ ’’ کور کمانڈروں کی ملاقات میں طے شدہ شرائط کے مطابق پی ایل اے نے پیچھے ہٹنا شروع کردیا ہے اور بھارتی فوج اب اس امر کی تصدیق کررہی ہے کہ چینی فوجی کہاں تک پیچھے ہٹ گئے ہیں لیکن کیا بھارتی فوجی بھی علاقے سے پیچھے ہٹے ہیں، اس بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ادھر بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طرفین نے سرحد پر کشیدگی کے خاتمے اور سرحدی محاذ سے فوجیوں کو پیچھے ہٹانے کے لیے مثبت پیش رفت کی ہے۔

انھوں نے کہا:’’ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ بھارت کی طرف سے بھی دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ اتفاق رائے کے مطابق عملی اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ چین اور بھارت کی افواج کے درمیان حالیہ ہفتوں کے دوران میں سرحدی علاقے میں متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوٗی ہیں۔ان کا آغاز 9 مئی کو ریاست سِکم کے انتہائی بلندی پر واقع سرحدی علاقے میں دوبدو لڑائی سے ہوا تھا۔اس کے بعد وادیِ گلوان میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان لڑائی ہوئی تھی اور اس میں گذشتہ پینتالیس سال میں پہلی مرتبہ طرفین کا جانی نقصان ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان 3500 کلومیٹر (2200 میل) طویل سرحد ہے لیکن دشوار گذار پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی مناسب طریقے سے حد بندی نہیں ہوئی ہے اور دونوں ملک ہی غیر شناختہ سرحدی علاقوں پر اپنا حق جتلاتے رہتے ہیں۔

بعض بھارتی مبصرین کے مطابق بھارت سرحدی علاقے میں سڑکیں اور فضائی پٹی تعمیر کررہا ہے۔ وہ چین کے بیلٹ اور روڈ اقدام کے ردعمل میں یہ تعمیرات کررہا ہے اور اس وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

دونوں ملکوں کے درمیان 1962 سے سرحدی علاقے میں کشیدگی چلی آرہی ہے۔تب ان کے درمیان شمال مشرق میں واقع ریاست اروناچل پردیش پر تنازع پر باقاعدہ جنگ لڑی گئی تھی۔