.

سوئٹزر لینڈ میں داعش سے تعلق کے الزام میں دو افراد پر فردِ جُرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئٹزرلینڈ میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے دو افراد پرسخت گیر جنگجو گروپ داعش میں شمولیت کے الزام میں فرد جرم عاید کردی ہے۔

ان میں ایک مجرم سوئٹزرلینڈ اور تونس کی دُہری شہریت کا حامل ہے۔اس پرداعش کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کا الزام ہے۔اس کے ساتھ ایک سوئس مدعاعلیہ پر فرد جرم عاید کی گئی ہے۔اس پر داعش اور القاعدہ ایسے کالعدم گروپوں میں شمولیت کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ ان دونوں کو مبیّنہ طور پر سوئٹزر لینڈ اور فرانس میں ایک گروپ کے ساتھ تربیت دی گئی تھی اور اس کے بعد 2015ء کے آخر میں ترکی کا سفر کیا تھا۔

سوئس اٹارنی جنرل کے ایک بیان کے مطابق ترکی میں ان کا قیام داعش کی ایک محفوظ پناہ گاہ میں تھا۔پھر انھوں نے جب شام میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انھیں ترک حکام نے روک دیا تھا۔ان کی 2016ء کے موسم گرما میں سوئٹزرلینڈ میں واپسی ہوئی تھی اور انھیں قبل از مقدمہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔

بیان کے مطابق ان دونوں افراد کو بعد میں رہا کردیا گیا تھا اور ان کی رہائی کی شرط غیر متعیّنہ اقدامات رکھی گئی تھی۔ ان میں ضمانت ، پاسپورٹ کی حوالگی، نقل وحرکت پر پابندی اور حکام سے باقاعدگی سے ملاقاتیں شامل ہیں۔

سوئس پراسیکیوٹرز اس وقت ’’جہاد محرکہ دہشت گردی‘‘ سے متعلق ستر فوجداری مقدمات کی پیروی کررہے ہیں۔ان میں زیادہ تر کا تعلق پروپیگنڈا ، سخت گیر گروپوں کے لیے لوگوں کی بھرتی اوران کی مالی معاونت سے ہے۔

سوئس حکام نے ان دونوں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ جب ان کے خلاف مقدمے کی سوئس وفاقی فوجداری عدالت میں سماعت شروع ہوگی تو وہ عدالت سے انھیں سزائیں دینے کا مطالبہ کریں گے۔فی الوقت انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ ان دونوں کے لیے عدالت سے کیا سزا مانگ کریں گے۔

واضح رہے کہ سوئٹزر لینڈ کو دوسرے یورپی ممالک کی طرح متشدد انتہا پسندوں کے حملوں کا سامنا نہیں ہوا ہے اور وہ دہشت گردی کے واقعات سے محفوظ رہا ہے۔اس کے پڑوسی ملک فرانس گذشتہ برسوں کے دوران میں میں دہشت گردوں نے متعدد حملے کیے تھے۔