.

کویت آیندہ مہینوں میں نئےاقامتی قانون کے تحت تارکینِ وطن کی تعداد میں نمایاں کمی کردے گا

اَن پڑھ مزدور اب کویت کی ترجیح نہیں رہیں گے، ہُنرمند غیرملکی افرادی قوت کو ویزوں کا اجرا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت تارکینِ وطن کے لیے آیندہ مہینوں میں ایک نظرثانی شدہ اقامتی قانون متعارف کرارہا ہے،اس کے نفاذ کے بعد اس خلیجی ریاست میں غیرملکی تارکینِ وطن کی تعداد میں نمایاں کمی کردی جائے گی۔

کویت کے وزیر داخلہ انس الصالح نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’حکومت نے نئے قانون کا مسودہ تیار کرلیا ہے،اس میں موجودہ اقامتی قانون پر نظر ثانی کی گئی ہے اور اس کو’’اپ گریڈ‘‘ کیا گیا ہے۔اس کے تحت کویت میں موجود غیرملکی شہریوں کی تعداد کم کردی جائے گی۔‘‘

کویت کی اسمبلی کے اسپیکر مرزوق الغانم کا کہنا ہے کہ اب مزدوروں کے بجائے ’’ہُنرمند‘‘ تارکینِ وطن (کی بھرتی) پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

کویت ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں تیرہ لاکھ کے لگ بھگ تارکینِ وطن ایسے ہیں جو یا تو بالکل اَن پڑھ ہیں یا بہ مشکل چند الفاظ لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔اب وہ ترجیح نہیں رہیں گے۔

اسپیکر نے کہا کہ نئے مسودۂ قانون میں مختلف کاروباروں پر یہ قدغن لگائی جارہی ہے کہ وہ ہر سال کتنی تعداد میں تارکین وطن کو بھرتی کرسکتے ہیں۔ وہ اس متعیّنہ تعداد سے زیادہ غیرملکیوں کو بھرتی نہیں کرسکیں گے۔اس کے علاوہ ان تارکینِ وطن کی پیشہ ورانہ مہارتوں پر مبنی قواعد وضوابط بھی وضع کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کویتی پارلیمان نومبر میں انتخابات سے قبل اکتوبر تک تارکینِ وطن سے متعلق اس قانون سازی کو مکمل کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ کویت نے قبل ازیں بھی ملک میں غیرملکی تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے کی متعدد مرتبہ کوششیں کی ہیں۔اس وقت ان کی تعداد کل آبادی کا قریباً70 فی صد ہے۔تاہم کرونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد یہ مسئلہ عوامی بحث ومباحثے کا موضوع نہیں رہا ہے۔

تارکینِ وطن سے رویّے کا مشاہدہ

دنیا بھر میں چلنے والی’’سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی اہمیت کی حامل ہیں‘‘تحریک کے نتاظر میں کویت میں غیرملکیوں سے روا رکھا جانے والے سلوک کا بھی باریک بینی سے مشاہدہ کیا جارہا ہے۔

اپریل میں کویتی اداکارہ حیاۃ الفہد کے سوشل میڈیا پر ایک مطالبے نے نیا تنازع کھڑا کردیا تھا۔ انھوں نے کویت میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد تارکینِ وطن پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ناقدین نے انھیں نسل پرست قرار دیا تھا اور بہت سے تبصرہ نگاروں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ بے روزگار تارکینِ وطن کو ویزے فروخت کرکے بھاری منافع کمانے والے ویزے کے تاجروں کو ہدف تنقید بنایا جانا چاہیے، چہ جائیکہ خود تارکینِ وطن پر تنقید کی جائے۔

کویتی پارلیمان کے رکن عمر الطبطبائی نے تب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ آج حقیقی مسئلہ مقیم افراد نہیں ہیں،بلکہ اصل ذمے دار وہ فرد ہے جو کسی مقیم (تارکِ وطن) کو یہاں لایا،پھر اس کا استحصال کیا،اس کو گلیوں اور بازاروں میں ایسے ہی زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا اور پھر اس سے ہر ماہ اور ہرسال رقوم اینٹھ رہا ہے۔‘‘