.

کرونا سے متاثرہ لبنانی نژاد لوئس ابی نادر ڈومینیکن ریپبلک کے صدر ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈومینیکن ریپبلک میں ابتدائی رپورٹ کے مطابق Luis Rodolfo Abinader Corona نے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس طرح 52 سالہ لبنانی نژاد تاجر اور سیاست دان لوئس روڈولف ابی نادر کرونا دنیا میں کسی بھی ریاست کے پہلے سربراہ ہوں گے جن کا نام "كروونا" کے لفظ کا حامل ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ گذشتہ ماہ کرونا وائرس کا مزہ بھی چکھ چکے ہیں۔

لوئس کی پیدائش کے بعد ان کا پورا نام Luis Rodolfo Abinader Corona رکھا گیا۔ لاطینی امریکا کے بعض ممالک کے رواج کی طرح لوئس بھی پہلے نام کے بعد والد کا خاندانی نام اور آخر میں والدہ کے خاندانی نام کو لکھتے ہیں۔ ان کے والد کا تعلق لبنان کے ایک قصبے بسکنتا سے ہے۔ یہ قصبہ جبل لبنان صوبے میں واقع ہے۔ لوئس نے 2012 اور 2016 کے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا تاہم وہ دونوں بار شکست سے دوچار ہوئے۔ سال 2014 میں انہوں نے "Modern Revolutionary Party" کے نام سے ایک سیاسی جماعت تشکیل دی۔ سال 2016 اور اب 2020 کے صدارتی انتخابات میں وہ اسی پارٹی کے امیدوار کے طور پر شریک ہوئے۔

صدارتی انتخابات کے حوالے سے لوئس کے واحد حریف Dominican Liberation Party کے 60 سالہ امیدوار گونزیلو کاسٹیلو تھے۔ کاسٹیلو ملک کے سابق وزیر محنت رہ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈومینیکن ریپبلک میں 80 ہزار سے ایک لاکھ تک ایسے افراد بستے ہیں جن کا نسلی تعلق لبنان سے ہے۔

لوئس ابی نادر نے معاشیات میں گریجویشن مکمل کیا اور وہ کاروبار سے وابستہ ہیں۔ لوئس اپنے خاندان کی جانب سے قائم کیے گئے گروپ ABICOR کے صدر ہیں۔ یہ کاروباری گروپ مختلف سیاحتی منصوبوں کے حوالے سے سرگرم ہے۔ اسی طرح اس گروپ نے سیمنٹ کے کارخانے قائم کیے جو کافی مشہور ہیں۔

گذشتہ ماہ جون کے اوائل میں لوئس ابی نادر، ان کی لبنانی نژاد اہلیہ راکوئل عرباجی سونی فرح اور ان کی تین میں سے دو بیٹیاں کرونا وائرس کا شکار ہو گئیں۔ بعد ازاں علاج کے ذریعے یہ چاروں افراد صحت یاب ہو گئے۔

صدارتی انتخابات جیت کر آئندہ ماہ اگست میں اپنا منصب سنبھالنے کی صورت میں لوئس کے سامنے ایک بڑا اور اہم چیلنج کرونا وائرس سے نمٹنا ہو گا جو کہ ان کے نام کا حصہ بھی ہے۔ اس وبائی مرض کے سبب ڈومینیکن ریپبلک میں اتوار کے روز تک 786 افراد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ملک میں کرونا کے مصدقہ کیسوں کی تعداد 36184 ہو گئی ہے۔

اس وبا کے اثرات کے نتیجے میں 7.5 لاکھ افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ مقامی اخبار Diario Libre کے مطابق کرونا وائس نے ملک کے سیاحتی شعبے کو مفلوج کر دیا ہے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں سیاحت کے سیکٹر کا حصہ 10% ہے۔