.

13 ملین ترک نوجوان طیب ایردوآن کے خلاف صف بستہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کروڑوں ترک نوجوانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں مگر ان کی کوششوں کے برعکس ترکی میں نئی نسل طیب ایردوان کی نہ صرف مخالف ہے بلکہ ان سے گلوخلاصی چاہتی ہے۔

ڈوئچے ویلے نیوز نیٹ ورک کے دو نامہ نگاروں سینیم ازدیمیر اور ڈینیل ڈیریا بیلٹ کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی کے لاکھوں نوجوان طیب ایردوآن کے خلاف بغاوت پرآمادہ ہیں اور انہوں نے صدر ایردوآن کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے۔

رپورٹ میں "Generation Z" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا مطالب سنہ دو ہزار سے شروع ہونے والی ترکی کی نئی نسل ہے۔ اس نسل میں ترکی کے وہ نوجوان شامل ہیں جو سنہ دو ہزار کے بعد پیدا ہوئے۔ ان کی اکثریت طیب ایردوآن اور ان کی جماعت آق کے سوا کسی کو نہیں جانتی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ترک نسل سوشل میڈیا کی آزادی چاہتی ہے۔ یہ نسل اسمارٹ فون کے ساتھ جوان ہوئی ہے اور ان کی سوچ اور طیب ایردوآن کی سوچ میں واضح فرق ہے۔

ڈوئچے ویلے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں حال ہی میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس نے ترکی کی نوجوان نسل کو صدر طیب ایردوآن اور ان کی سرکار سے مزید متنفر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ترکی میں "YKS" کے دوسرے مرحلے کے امتحانات کے لیے جولائی کے آخر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی مگر ان امتحانات کا شیڈول اچانک تبدیل کرکے 27 اور 28 جولائی کردیا گیا۔

ترک حکومت کے اس اقدام پر طلبا میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ ناقد طلبا کا کہنا ہے کہ امتحانات کا شیڈول تبدیل کرنے کے پیچھے معاشی محرک ہے۔ حکومت نے امتحان کا سابقہ شیڈول اس لیے تبدیل کیا کیونکہ امتحان کے دنوں میں سیاحت کے متاثر ہونے کا اندیشہ تھا۔ حکومت کے نزدیک معیشت اور سیاحت تعلیم سے زیادہ اہم ہے۔

ایک انیس سالہ طالبہ اسلی نے کہا کہ حکومت نے"YKS" کے امتحانات اور ٹیسٹ کے لیے پہلے ایک تاریخ مقرر کی مگر بعد میں اسے اچانک تبدیل کردیا گیا، یہ ایک شرمناک واقعہ ہے اور اس کے پیھچے سیاحت اور اقتصادی محرکات ہیں۔

ایک دوسرے طالب علم فاتح نے کہا کہ ترک حکومت کی پالیسیوں سے نئی نسل اور طلبا غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ انہوں نےکہا کہ یہ ترکی ہے یہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔