.

سعودی عرب : 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح 12 فی صد سے کم رہ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ 12 فی صد سے کم ہو کر 11۰8 فی صد رہ گئی ہے۔ سعودی شہریوں میں 2019ء کی تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح 12 فی صد کے لگ بھگ تھی۔

سعودی عرب کے ادارہ شماریات کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح میں کمی کا بڑا سبب خواتین کا بڑی تعداد میں برسر روزگار ہونا ہے اور اس وقت وہ مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں سعودی شہری خواتین میں بے روزگاری کی شرح میں 2۰7 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔2019ء کی آخری سہ ماہی میں سعودی خواتین کی بے روزگاری کی مجموعی شرح 28۰2 فی صد تھی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں بے روزگار افراد میں نوجوانوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔20 سے 29 سال کے درمیان سعودی شہریوں کا تناسب 62۰9 فی صد ہے۔

ادارہ شماریات نے وضاحت کی ہے کہ بے روزگاری کے ان اعداد وشمار کو اکٹھے کرتے وقت کرونا وائرس کی وَبا کے اثرات کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔

سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح میں کمی کا ایک سبب ویژن 2030 پر عمل درآمد ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ اس وسیع تر اصلاحاتی پروگرام کے تحت ملکی معیشت کو متنوع بنایا جارہا ہے اور سعودی شہریوں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کیے جارہے ہیں۔

اس اصلاحاتی پروگرام کے تحت 2030 ء تک سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح کو 7 فی صد تک کم کیا جائے گا اور آیندہ دس سال کے دوران میں ان کے لیے لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی۔

ادارہ شماریات کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق سعودی شہریوں میں گذشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح 12۰3 فی صد تھی جبکہ 2018ء میں بے روزگاری کی شرح 12۰9 فی صد تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں