.

نئی آڈیو: کویتی مبلغ اور معمر قذافی کے خلیجی عرب لیڈروں کے خلاف میڈیائی منصوبہ کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت سے تعلق رکھنے والے مبلغ اور مصنف حاکم المطیری نے لیبیا کے سابق مطلق العنان حکمران معمر قذافی کو خلیجی عرب لیڈروں کے خلاف میڈیا پر ایک مہم برپا کرنے کے بارے میں اپنے منصوبے سے آگاہ کیا تھا۔

اس بات کا انکشاف قطر کے حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے کارکن خالد الہیل کی جاری کردہ نئی آڈیو ریکارڈنگ سے ہوا ہے۔حاکم المطیری کویت کی اُمہ پارٹی کے سربراہ ہیں۔یہ ایک غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے اور قدامت پرست اور انتہا پسندانہ نظریات کی حامل ہے۔ ماضی میں انھوں نے کویت میں سلفی تحریک کے قیام میں بھی حصہ لیا تھا۔ وہ امریکا اور سعودی عرب کےناقد رہے تھے۔

اس نئی ریکارڈنگ میں حاکم المطیری مقتول معمر قذافی کو یہ بتارہے ہیں کہ ’’وہ خلیج عرب میں حکمران خاندانوں کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں، خواہ یہ کام خطے میں عوام میں اصلاحات کے منصوبے کے بارے میں شعور بیدار کرکے کیا جائے یا روحِ انقلاب کی تیاری کی جائے یا انقلاب برپا کرکے کیا جائے۔‘‘

وہ کرنل قذافی سے مزید کہتے ہیں:’’ہمارے پاس العلماء چینل ہے اور ہم نے اس کے مقاصد کا اعلان کردیا ہے۔شاہی خاندان موجود ہیں اور وہ دولت اور اقتدار پر قابض ہیں۔میڈیا پر بھی ان کا کنٹرول ہے۔انھوں نے ہمیں ایسے چینلوں میں ڈبو دیا ہے جو انھیں تقدس مآب بنا کر پیش کرتے ہیں اور دن رات ان کی مدح سرائی میں لگے رہتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے بعد قذافی سے ان کی مدد کے طالب ہوتے ہیں۔

پھر لیبیا کے سابق آمر حاکم المطیری کی گفتگو کا جواب دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں:’’ہم تیار ہیں۔ ہم آپ کی توجہ ایک خاص موضوع کی جانب دلانا چاہتے ہیں۔مجھے ایک مرتبہ ڈاکٹر مداوی الرشید سے ملاقات کا موقع ملا اور میں نے ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی اور آپ کی توجہ بھی اس جانب مبذول کراؤں گا۔آپ اسے دستوری بادشاہت کی جانب ایک قدم قرار دے سکتے ہیں۔ہم فرض کرلیتے ہیں کہ یہ خاندان ہم سے آگے ہیں اور ان کے آگے جو شاہراہ ہے،وہ اس کو قطع کر لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم دستوری بادشاہت ہیں۔‘‘

خالد الہیل نے دوسری دسیوں صوتی ریکارڈنگز کی طرح یہ نئی آڈیو بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے لیکن العربیہ اس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق معمر قذافی عالمی لیڈروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کو اس طرح خفیہ طور پر ریکارڈ کر لیا کرتے تھے اور 2011ء میں ان کی حکومت کے خاتمے اور اندوہناک قتل کے بعد سے وقفے وقفے سے ایسی ریکارڈنگز جاری کی جارہی ہیں۔

گذشتہ ہفتے خالد الہیل نے کرنل قذافی اور حاکم المطیری کی ایک اور ریکارڈنگ جاری کی تھی۔اس میں ان دونوں کو کویت اور سعودی عرب میں ارباب اقتدار کا تختہ الٹنے کے منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔

حاکم المطیری نے اس میں کہا تھا:’’ہمیں ان حکومتوں کی تبدیلی میں ایک مسئلے کا سامنا ہے۔اگر ہم ان کا تختہ نہیں الٹ سکتے تو پھر ان کے اختیارات کو کم کردیں تاکہ ان کی وہی حیثیت ہو جو برطانیہ میں (ملکہ اور شاہی خاندان کی) ہے،(وہاں) خاندان حکمرانی نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کے حق دار ہی نہیں۔‘‘وہ کویت اور سعودی عرب کے حکمران خاندانوں کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا:’’خطے میں بنیادی تبدیلیوں کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔معاملات کو ان کی جگہ پر لانے اور ان حکومتوں کو گرانے یا انھیں ان کی ٹھیک جگہ پر رکھنے ہی سے لوگوں کو اس نوآبادیات سے آزادی دلائی جاسکتی ہے۔‘‘

قطری کارکن قبل ازیں معمر قذافی کی قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی اور سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم کے ساتھ بات چیت کی آڈیو ریکارڈنگز جاری کرچکے ہیں لیکن ان کی تاریخوں کا کچھ معلوم نہیں کہ یہ کب ریکارڈ کی گئی تھیں۔

ان خصوصی گفتگوؤں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ قطر معمر قذافی کے ساتھ مل کر کس طرح اپنے ہمسایہ خلیجی عرب ممالک کے لیڈروں کے خلاف سازشیں کرتا رہا ہے اور اس نے خود کیسے لیبیا کے انقلابی نظام کے ساتھ تعلقات استوار کررکھے تھے۔قطر نے آج تک ان آڈیو ریکارڈنگز کی صحت سے انکار نہیں کیا ہے۔