.

احتجاج کے باوجود ترکی میں وکلا کی آزادی کے خلاف متنازع قانون منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی پارلیمنٹ نے وکلا برادری کے احتجاج کے باوجود وکلا کی تنظیم سازی کے حوالے سے ایک متنازع قانون کی منظوری دے دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بل کی منظوری کا مقصد وکلا کی آزادی پر قدغن لگانا اور بار ایسوسی ایشن کی پیشہ وارانہ خدمات کو محدود کرنا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ قانون کی منظوری کے بعد ترکی میں تمام وکلا کو ایک صف میں آنے اور جمہوری روایات کےفروغ میں اپنا کردارادا کرنے کا موقع ملے گا۔

ترک پارلیمنٹ میں یہ نیا اور متنازع قانون صدر رجب طیب اردوآن کی پارٹی (آق) نے پیش کیا تھا۔ بل پیش کرنے اور اس پر بحث کے دوران وکلا نے اس کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا، جہاں پولیس اور وکلا کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

حکومت نے کہا ہے کہ یہ قانون " جمہوری اور عددی برتی" کے نظام کی تشکیل میں مدد کرے گا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مرکزی بار ایسوسی ایشنوں کے اثرات کم کرنا اور طیب ایردوآن کے ناقدین کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔

یہ تبدیلی ترکی میں عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کی وسیع پیمانے پر تنقید کے دوران سامنے آئی ہے۔

اس قانون کے تحت ایک ہی صوبے میں وکلا متعدد بار ایسوسی ایشن بنا سکیں گے۔ اس سے جامع قومی تنظیم میں یونینوں کی نمائندگی سے بھی چھٹکارا مل جائے گا اور وکلا تنظیموں میں استنبول اور انقرہ جیسے بڑے شہروں کی اجارہ داری کم کرنے میں مدد ملے گی۔