.

ایردوآن کی لیبیا میں پرخطر ’لا یعنی‘ مہم جوئی: فارن پالیسی میگزین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فارن پالیسی میگزین کی ایک تازہ رپورٹ میں لیبیا میں ترکی کی فوجی مہم جوئی اور اس کے اثرات ومضمرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں ترک صدر طیب ایردوآن کی مہم جوئی کسی اسٹریٹجک ہدف کے بغیر، منزل مقصود سے محروم اور خطرات سے بھرپور ہے جس کا کوئی واضح مستقبل دکھائی نہیں دیتا۔

فارن پالیسی میگزین کی ایک طویل رپورٹ میں ترک صدر کی لیبیا میں فوجی کارروائی کو ان کے توسیع پسندانہ عزائم کی عکاس قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترک صدر کی موجودہ پالیسی ان کے ماضی کے بیانات اور اقدامات کے الٹ ہے۔ طیب ایردوآن کی جانب سے لیبیا میں جاری فوجی آپریشن اور قومی وفاق حکومت کی معاونت کے لیے جنگجو اور اسلحہ کی فراہمی پر ترکی کی حکمراں جماعت آق بھی حیرت زدہ ہے۔

اس میں لکھا ہے کہ طیب ایردوآن کے اقتدار میں آنے کے بعد انقرہ نے پڑوسی ممالک کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر تیزی سے عسکری شکل میں تبدیل کیا ہے۔ ترکی نے بحیرہ ایجہ اور مشرقی بحر روم کے ممالک کے حوالے سے ایک جارحانہ پالیسی اپنائی ہے۔

شاید اس ترک پالیسی کا سب سے واضح پہلو لیبیا ہے۔ نومبر میں بحیرہ روم کو تقسیم کرنے والے نقشے اور سمندری حدود کی تقسیم کے حوالے سے ترکی اور لیببیا کی قومی وفاق حکومت کے درمیان گذشتہ نومبر میں ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے بعد ترکی کی لیبیا میں مداخلت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔

امریکی جریدے نے استفسار کیا کہ ترکی نے 1200 میل دور لیبیا میں فوجی مہم جوئی شروع کرکے کیاحاصل کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ ترکی اس وقت خود معاشی بحران اور کئی داخلی اور خارجی چیلنجز کا شکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترکی کی لیبیا کی جنگ میں غوطہ زن ہونے کے پس پردہ 3 جغرافیائی مفادات یا اہداف ہیں۔

شاید ان مقاصد یا مفادات میں سے ایک طیب ایرددآن نے سالوں قبل فلسطینی حقوق جیسے اصولوں اور بڑے سیاسی امور کے پہلے محافظ کی حیثیت سے خود کو پیش کرنے کوشش کی تھی۔ شام حکومت کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے پر اصرار کیا۔ ان اقدامات اور تقاریر نے حکمران جماعت کی ایک اچھی شبیہہ کو رنگین بنانے کے لیے ترک صحافت کو اپنے لیڈر کی تعریف کا موقع فراہم کیا۔

میگزین نےنشاندہی کی کہ یہ معاملہ ایردوآن کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ ایک کمزور معیشت میں 2023 کے انتخابات کے منتظر ہیں۔ ترکی کی معیشت کے ساتھ ساتھ طیب ایردوآن کی مقبولیت میں بھی تیزی کے ساتھ کمی آ رہی ہے۔

دوسرا مقصد لیبیا میں انقرہ کے اقدامات دراصل یونان، مصر اور قبرص کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات کے جوابی یا انتقامی رد عمل کے طور پر سامنے آئے۔

لیبیا میں ترکی کی مداخلت کے تیسرے مقصد کے بارے میں فارن پالیسی میگزین نے لکھا ہے کہ ترکی اپنے علاقائی مخالفین یعنی مصر اور امارات کو چیلنج کرنے کے لیے لیبیا میں دخل اندازی کررہا ہے۔