.

پروپیگنڈا آن لائن گیم میں ترکی کے جنگی ہتھیاروں کی تشہیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی فوج اس بار شامی سرزمین پر اپنے تین فوجی حملوں کو الیکٹرانک گیم میں پیش کر رہی ہے حالانکہ شام میں ترک فوج کی متنازع کہلائی جانے والی کاروائیاں جاری ہیں، جہاں "ایس ڈی ایف" اتحاد میں ترک جنگجوؤں اور شامی باشندوں کے درمیان آئے روزعین عیسیٰ ، تل تمر اور تلہ ابیض میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

"ترک محکمہ دفاع کی ٹیم" نے اتوار کے روز "ٹویٹر" پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر "آرما 3" گیم کا اعلان کیا۔ ترک فوج نے اپنے دیسی اسلحہ کو کھیل "اے آر ایم اے 3" میں داخل کر کے اس کی ترویج اور تشہیر شروع کی ہے۔

تکنیکی ماہرین کا خیال ہے کہ ایف پی ایس کھیلوں کے گروپ میں اس کھیل کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے پیچھے"ترک انتہا پسند" ہیں۔

تکنیکی ماہر دلشاد عثمان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ایف پی ایس گیم پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور بہت سے کھلاڑی اس میں حصہ لیتے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ اس میں ڈویلپرز اور ڈیزائنرز کے ایک منظم گروپ کا مالک ہے جو نئی فوج ، اسلحہ اور نقشے تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس سے اس کھیل کے دائرے میں مزی وسعت آتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ترک انتہا پسند گروپوں نے شام میں ترک فوج کی کارروائیوں کے لیے نقشے تیار کیے" اور انہیں ایف پی ایس کھیل تک پہنچایا۔

انقرہ نے شمالی شام اور عراق میں اپنی اصل فوجی کارروائیوں میں یورپی اور امریکی ہتھیاروں پر بھاری انحصار کے باوجود اس کھیل کے ذریعے اپنے دیسی اور مقامی ساختہ ہتھیاروں کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق "پروپیگنڈا گیم" کا مقصد "ترک فوج اور اس کی جنگی صلاحیتوں کو متعارف کروانا ہے۔

"ترکی کی دفاعی ٹیم" کے مطابق ان ہتھیاروں کو "برقی طور پر" ڈیزائن کرنے میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔ ان میں ترکی کے سازوسامان کا ایک گروپ شامل ہے ، جیسے ڈرونز "بائرکادر" ، "بکتر بند" کوپر "،" اٹیک "ہیلی کاپٹر اور" الطائی "ٹینک شامل ہیں۔

ایف پی ایس کے صارفین اب ان ہتھیاروں سے لڑنے والے ترک فوجی کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ "فرات شیلڈ" ، "زیتون برانچ" اور "بہار کی امن" کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں شامی باشندے بے گھر ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں