.

یو اے ای لیبیا میں فوری جنگ بندی کے لیے کام کررہا ہے: انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انورقرقاش نے کہا ہے کہ ان کا ملک لیبیا میں فوری جنگ بندی اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے مسلسل کام کررہا ہے۔

انھوں نے سوموار کو اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یو اے ای اور اس کے شراکت دار لیبیا میں تحفظ کے مکمل اقدامات کے ساتھ جلد سے جلد تیل کی پیداوار کی بحالی چاہتے ہیں۔ہم فوری جنگ بندی اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔‘‘

ان کے اس بیان سے چندے قبل ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے لیبیا میں جنگ بندی کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ جنگ بندی پر اتفاق کا انحصار کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج( ایل این اے) کے انخلا پر ہوگا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدرکرنل معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی جاری ہے۔ البتہ اس کے متحارب فریق بدلتے رہے ہیں۔2019 ء کے اوائل سے لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیر قیادت ایل این اے کی قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے تحت فورسز کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔

ان دونوں متحارب فورسز کے درمیان جنگ بندی کے لیے غیرملکی قوتیں اورعلاقائی ممالک بھی مداخلت کررہے ہیں جبکہ ترکی نے جی این اے کی حمایت میں اپنے فوجی دستے بھیجے ہیں اور اس کو اسلحہ بھی مہیا کیا ہے۔یو اے ای ، سعودی عرب اور مصر خلیفہ حفتر کی فورسز کی حمایت کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں