.

ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش میں ہے: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر روبرٹ اوبرائن کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک مقامی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں اوبرائن نے باور کرایا کہ جب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ موجود ہیں وہ ایسا کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے مطابق امریکا جانتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے، امریکا کو اس بات کا علم اُن شواہد سے ہوا جو اسرائیل نے ایک سیکورٹی مشن کے دوران حاصل کیے۔ اوبرائن کا کہنا تھا کہ "ایران دو جوہری مقامات پر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو پہنچنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ اسی طرح تہران جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر روک لگانے سے متعلق سمجھوتے اور جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کر رہا ہے"۔

اوبرائن نے زور دے کر کہا کہ امریکی انتظامیہ نے مصمم ارادہ کر رکھا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گی۔

وائٹ ہاؤس کے اعلی عہدے دار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ دنوں کے دوران ایران میں عسکری، جوہری اور صنعتی تنصیبات کے اطراف کئی مشتبہ دھماکے دیکھے گئے۔ گذشتہ روز ایرانی پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ یہ پیش رفت ملک کے شمال مشرق میں ایک صنعتی کمپلیکس میں آگ بھڑک اٹھنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہاں گیس کنڈینسرز کا ایک کمپلیکس واقع ہے جن میں ایک دھماکے سے پھٹ گیا تھا۔ یہ تفصیلات ایرانی خبر رساں ایجنسی "مہر" کی جانب سے جاری کی گئیں۔

گذشتہ جمعرات کے روز ناتنز کی زیر زمین تنصیب میں ایک عمارت کے اندر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ یہ مقام ملک میں یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کا مرکز ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں بھاری نقصان ہوا۔

اس سے قبل 26 جون کو تہران کے مشرق میں بارشین فوجی اڈے کے نزدیک ایک زوردار دھماکا ہوا تھا۔ حکام نے اس موقع پر بتایا تھا کہ دھماکے کی وجہ فوجی اڈے کے باہر ایک علاقے میں گیس کی تنصیب سے ہونے والا رساؤ ہے۔