.

مصر: آبرو ریزی کا شکار لڑکی اور اس کی نوزایدہ بچی کوانصاف مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے جبری زیادتی کا شکار ہونےوالی ایک لڑکی اور اس زیادتی کے نتیجےمیں پیدا ہونے والی بچی کو طویل تگ ودو کے بعد اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ انصاف کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کی الدقھلیہ گورنری سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی امل عبدالحمید نے پراسیکیوٹر جنرل کو درخواست دی تھی کہ مارچ 2018ء کو ایک شخص نے اس کی زبردستی آبرو ریزی کی جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی اور ایک بچی پیدا ہوئی۔

بچی کی پیدائش کے بعد امل نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ملزم کو کے خلاف درخواست دائر کی۔ عدالت نے اس حوالے سے تحقیقات کیں مگر بچی کا نسب ثابت نہ ہوسکا۔

حال ہی میں امل نے دوبارہ اسی کیس کی تحقیقات کی درخواست دی ملزم کے فرانزک ٹیسٹ کرانے اور ڈی این اے کی مدد سے بچی کا نسب ثابت کرنے کا مطالبہ کیا۔

عدالت کے حکم پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا مگر اس نے بچی کا باپ ہونے سے انکار کردیا۔ اس پر فرانزک ٹیم نے ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا۔ ملزم اور بچی کے ڈی این اے میچ کرگئے۔ اس پر عدالت نے بچی کا نسب ملزم کے ساتھ ثابت کرکے امل اور اس کی بچی کو انصاف فراہم کیا۔