.

تُونس کے وزیراعظم الیاس الفخفاخ حکمران اتحاد میں اختلافات کے بعد مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُونس کے وزیراعظم الیاس الفخفاخ نے پانچ ماہ کے بعد ہی حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور صدر قیس سعیّد کو اپنا استعفا پیش کردیا ہے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق تُونسی وزیراعظم نے مستعفی ہونے کا فیصلہ حکمران اتحاد میں شامل بڑی جماعت کے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے بعد کیا ہے۔

صدر قیس سعیّد ان کے استعفے کی منظوری کے بعد ایک ہفتے میں نیا وزیراعظم نامزد کریں گے اور وہ دو ماہ میں نئی حکومت کی تشکیل اور اس کی پارلیمان سے منظوری لینے کے پابند ہوں گے۔

انھوں نے جنوری میں الیاس الفخفاخ کو وزیراعظم نامزد کیا تھا اورانھوں نے فروری میں اپنی کابینہ تشکیل دی تھی۔انھوں نے اپنی حکومت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمایندوں کو شامل کیا تھا لیکن ان کے درمیان مختلف پالیسی امور پر اختلافات برقرار رہے ہیں اور انھیں طے کرنے کے لیے اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

ان سے پہلے صدر قیس نے تُونس کے حکمران اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت النہضہ کو کابینہ بنانے کی دعوت دی تھی لیکن وہ کئی ماہ کی تگ ودو کے بعد بھی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔

عرب بہاریہ تحریکوں کی زد میں آنے والے ممالک میں تُونس واحد ملک ہے جہاں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جمہوری عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے لیکن انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی پے درپے حکومتیں عام لوگوں درپیش مشکلات کم کرنے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات میں ناکام رہی ہیں۔