.

سعودی عرب اور امریکا نے داعش کی مالی معاونت پر6 افراد اوراداروں کو بلیک لسٹ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور امریکا نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی مالی معاونت کے الزام میں افغانستان، ترکی اور شام سے تعلق رکھنے والے چھے افراد اور اداروں کو بلیک لسٹ کردیا ہے اور ان پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پابندیاں کی زد میں آنے والے افراد اوراداروں کی فہرست امریکا اور خلیجی عرب ممالک کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے مالی معاونین کے خلاف اقدامات کے ذمے دار مرکز(ٹی ایف ٹی سی) نے ترکی اور شام سے تعلق رکھنے والے تین اداروں اور ایک شخص کو بلیک لسٹ کیا ہے۔

محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ الحرم ایکس چینج ، توصل کمپنی اور الخالدی ایکس چینج نے شام سے تعلق رکھنے والے داعش کے جنگجوؤں کی مالی معاونت میں اہم کردار ادا کیا تھا اور داعش کی قیادت کو لاکھوں ڈالر منتقل کیے تھے۔

محکمہ خزانہ نے ان اداروں کے علاوہ داعش کے مالی معاون عبدالرحمان علی حسین الاحمد الراوی کو بلیک لسٹ کردیا ہے ۔داعش نے اس شخص کا 2017ء میں مالی خدمات مہیا کرنے والے ایک سہولت کار کے طور پرانتخاب کیا تھا اور اس نے شام میں داعش کو مالی وسائل مہیا کیے تھے۔

ٹی ایف ٹی سی نے افغانستان سے تعلق رکھنے والی نجات سماجی فلاحی تنظیم( سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن) اور اس کے ڈائریکٹر سیّد حبیب احمد خان کو بھی بلیک لسٹ کردیا ہے۔ان پر افغانستان میں داعش کی شاخ کو مالی وسائل مہیا کرنے کا الزام ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹیون نوشین نے بیان میں کہا ہے کہ '' ٹی ایف ٹی سی امریکا اور اس کے خلیجی شراکت داروں کو مشترکہ علاقائی خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے قریب لے آیا ہے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے ان نیٹ ورکس کو ہدف بنا رہا ہے جو خواہ کہیں بھی کارروائیاں کررہے ہیں۔‘‘