.

لیبیا: شام کے اجرتی جنگجوؤں کی پولیس تربیت، وڈیو سامنے آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جانب سے شام کے جنگجوؤں اور مختلف قومیتوں کے دیگر افراد کی لیبیا منتقلی اورانہیں جنگ کا ایندھن بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ العربیہ چینل کو ایک ویڈیو موصول ہوئی ہے جس میں شام سے آئے اجرتی قاتلوں کو لیبیا کی پولیس وردی میں دکھایا گیا ہے۔

یہ ویڈیو کلب صلاح الدین کے علاقے میں پولیس کالج کے اندر فلمایا گیا۔ شامی اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کے تحت وزارت داخلہ میں شامل کرنے کے لیے تربیت دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیرملکی جنگجوؤں کو مقامی پولیس کی وردی پہنائی گئی ہے۔ انقرہ کی طرف سے طرابلس کی افرادی قوت سے مدد کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ شامی جنگجو لیبیا میں پولیس کا حصہ بن رہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ ترک حکومت نے طرابلس کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے شدت پسند جنگجوؤں کا ایک نیا دستہ لیبیا بھیجا ہے۔

رصدگاہ کے اعدادوشمار کے مطابق لیبیا کے علاقے میں اب تک داخل ہونے والے شامی جنگجوؤں کی تعداد بڑھ کر 16،100 کے قریب گئی ہے ، جن میں 18 سال سے کم عمر کے 340 بچے بھی شامل ہیں۔ لیبیا میں لڑائی کے لیے بھرتی کیے گئے 5600 جنگجو اپنے کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد واپس شام آگئے ہیں جب کہ ترکی کی جانب سے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے مزید جنگجوؤں کی بھرتی اور ان کی عسکری تربیت کا عمل جاری ہے۔