.

منگل کو زمین اور مشتری کے ایک دوسرے کے قریب آنے کے مظاہر

سعودی ماہر فکلیات نے تفصیلات جاری کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ماہر فلکیات ملھم الھندی نے بتایا ہے کہ اکل منگل کو زمین اور ہمارے نظام شمسی میں شامل ایک سیارہ مشتری ایک دوسرے کے قریب آئے۔

عرب فیڈریشن برائے فلکیات و خلائی کے سائنس کے رکن بتایا کہ منگل کو زمین اور مشتری ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ملھم الھندی نے کہا کہ مشتری آج زمین کے ساتھ ارتباط کی منزل تک پہنچا ہے لہذا زمین مشتری اور سورج کے درمیان آگئی تھی۔ یہ فلکیاتی مظہر سیارے کے لیے ہر سال واقع ہوتا ہے ان کا مدار مریخ ، مشتری ، زحل ، نیپچون اور یورینس جیسے سیاروں کی طرح زمین کے مدار سے دور ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انضمام کا رجحان سیاروں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ایک بہترین وقت ہے کیونکہ وہ رات بھر چمکتے رہتے ہیں اور وہ زمین سے قریب ترین فاصلے پر آتے ہوئے فوٹوگرافروں بہترین تصاویر لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ملھم الھندی کا کہنا تھا کہ دونوں سیاروں کے قریب آنے کے وقت زمین اور مشتری کے درمیان فاصلہ 621 ملین کلومیٹر ہوگا جو سال کے دوران دونوں سیاروں کے مابین قریب ترین فاصلہ ہے۔ مشتری شمسی نظام کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ اپنے حجم اور عمر کے اعتبار سے بھی یہ زمین سے دو گنا بڑا ہے اور اس میں ہماری زمین جیسے دو سیارے سما سکتے ہیں۔ مشتری آج سے تین سو سال قبل دریافت کیا گیا تھا۔