.

سعودی وزیرِ توانائی کا تیل پیداوار میں کٹوتی کے سمجھوتے میں مزید توسیع کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ تیل کی عالمی مارکیٹ کرونا وائرس کی وَبا کے اثرات سے ابھی تک مکمل طور نہیں نکل سکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تیل کی عالمی مارکیٹ کی بحالی میں ابھی بہت وقت لگ سکتا ہے۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے لیے سمجھوتے میں مزید دوسال سے زیادہ عرصے تک توسیع کی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک نے اپریل میں یکم مئی سے تیل کی یومیہ پیداوار میں 97 لاکھ بیرل کمی پر اتفاق کیا تھا۔

اوپیک پلس کی اس ڈیل سے قبل میکسیکو سے یومیہ پیداوار میں چار لاکھ بیرل کمی کا تقاضا کیا گیا تھا لیکن وہ صرف ایک لاکھ بیرل یومیہ کٹوتی پر آمادہ ہوا تھا اور اسی نے اوپیک پلس کو اس کی پیش کش کی تھی۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد سے تیل کی مانگ میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔اس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتیں گر چکی ہیں اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی آمدن سکڑ کررہ گئی ہے۔

کرونا کے بحران سے سے امریکا کی تیل کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ اس کی تیل کی پیداواری لاگت دوسرے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام کے لیے پیداوار میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ بیرل تک یومیہ کٹوتی پر زور دیا تھا۔

عالمی کمپنیوں کے مقابلے میں امریکا کی تیل کی فرموں کی پیداواری لاگت سب سے زیادہ ہے۔امریکی کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمت 43 سے 55 ڈالر کے درمیان برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ان کے مقابلے میں سعودی آرامکو کی پیداواری لاگت کہیں کم ہے اور اس کی فی بیرل پیداواری لاگت تین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔اس لیے عالمی مارکیت میں تیل کی فروخت پراس کے منافع کی شرح دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔