.

لیبیا: اعلی سطح کے امریکی وفد کی خلیفہ حفتر سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں قومی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے امریکا کے ایک اعلی سطح کے سیاسی اور عسکری وفد سے ملاقات کی۔ حفتر کے قریبی ذرائع نے اس وفد کو فائر بندی کے سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے "آخری موقع" قرار دیا۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" نے غیر سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ وفد امریکا کی یہ تجویز لایا ہے کہ الہلال آئل فیلڈز کے علاقے کو ہر قسم کے فوجی وجود سے خالی کر دیا جائے اور یورپی فورسز اقوام متحدہ کی سرپرستی میں اس علاقے کی نگرانی انجام دیں۔

ادھر وفاق حکومت کے زیر انتظام میڈیا نے وزیر داخلہ کے فتحی باشاغا کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ باشاغا نے عنقریب وزارتی سطح پر ترمیم کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے تحت باشاغا وزیر دفاع کے منصب پر کام کریں گے۔ یہ منصب ابھی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج نے سنبھالا ہوا ہے۔

دوسری جانب مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

مصری ایوان صدر کے ترجمان کے مطابق دونوں شخصیات نے لیبیا میں غیر قانونی غیر ملکی مداخلتوں کو روکنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ اس مداخلت کے تحت مسلح ملیشیاؤں اور دہشت گرد تنظیموں کو استعمال میں لا کر لیبیا کے استحکام اور پورے علاقائی امن کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔

بات چیت میں فرانسیسی صدر نے لیبیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اعلانِ قاہرہ کے سلسلے میں مصر کی کوششوں کو سراہا۔

اسی دوران لیبیا کے قبائل کے عمائدین کی مجلس اعلی کا ایک وفد بنغازی سے آنے والے ایک طیارے میں سوار ہو کر قاہرہ پہنچا۔ وفد کی آمد کا مقصد لیبیا کے بحران کو زیر بحث لانا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل لیبیا کی پارلیمنٹ نے مصر کی فوج سے مطالبہ کیا تھا کہ لیبیا اور مصر کی قومی سلامتی کے تحفظ کو جلد خطرہ درپیش ہو تو مصر کی فوج فوری طور پر عسکری مداخلت کرے۔