.

مصر قومی سلامتی کو درپیش خطرات پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا رہے گا: السیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری صدرعبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ مصر اپنی اور لیبیا کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا رہے گا۔

مصری ایوانِ صدر نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ قاہرہ میں لیبیا کے قبائلی زعماء نے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی ہے اور انھیں اور مصری فوج کو لیبیا کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے دخل اندازی کی اپیل کی ہے۔مصری بیان کے مطابق انھوں نے صدر السیسی کو ملک میں فوجی مداخلت کا اختیاردے دیا ہے۔

یہ تمام قبائلی زعماء لیبیا کے مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر کے اتحادی ہیں۔ایوان صدر کے بیان کے مطابق ’’مصر جونہی لیبیا میں مداخلت کرے گا تو فوجی منظرنامہ فوری اور فیصلہ کن انداز میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا۔‘‘

صدر السیسی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو لیبیا میں مداخلت کا قانونی حق حاصل ہے اور انھوں نے فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے تا کہ وقتِ ضرورت فوجی مشن انجام دیے جاسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ مصری ریاست کی جانب سے لیبیا میں کسی بھی براہ راست مداخلت کے لیے عالمی قانونی جواز حاصل ہوگیا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے ممالک کی حمایت یافتہ دہشت گرد ملیشیاؤں اور شرپسند عناصر کی جانب سے مصر کو ’’براہ راست دھمکیاں‘‘ دی جارہی ہیں۔

صدر السیسی نے کہا کہ ’’مصر ہمیشہ سے لیبیا میں مداخلت پر متردد رہا ہے لیکن اب صورت حال مختلف ہوچکی ہے۔‘‘واضح رہے کہ مصری صدر نے جون میں لیبیا میں جنگ بندی کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

لیبیا میں حالیہ ہفتوں میں دونوں متحارب فریقوں اور ان کے اتحادی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) اور خلیفہ حفتر کے زیرِ قیادت لیبی قومی فوج(ایل این اے) کے درمیان ایک دوسرے کے زیر قبضہ علاقوں پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے۔ترکی جی این اے کی حمایت کررہا ہے جبکہ مصر ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خلیفہ حفتر کے حامی ہیں۔