.

ایردوآن نے آیا صوفیہ بارے رائے مسجد قرطبہ کے دورے کے 10 سال بعد کیوں تبدیل کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسپین کے ایک اخبار "اے بی سی" کے مضمون نگار مائیکل ایسٹران نے انکشاف کیا ہےترکی کے موجودہ صدر رجب طیب ایردوآن نے سنہ 2010ء میں اسپین کے دورے کے دوران قرطبہ شہر کی کیتھڈرل مسجد کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے اس دورے میں ایردوآن کے گائیڈ ایک عہدیدار کےحوالے سے بتایا کہ انہوں نے طیب ایردوآن کی رہ نمائی کےفرائض انجام دیے۔ مائیکل ایسٹران کا کہنا ہے کہ آج سے دس سال قبل طیب ایردوآن کا ترکی کے تاریخی میوزیم آیا صوفیہ کے حوالے سے نقطہ نظر مختلف تھا۔ انہوں نے قرطبہ مسجد کے دورے کےدوران کہا تھا کہ " ترکی تاریخ کا بہت زیادہ احترام کرتا ہے۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ آیا صوفیہ ترکی میں ایک میوزیم ہے ، مسجد نہیں "۔

قرطبہ کے مورخ لوئس ریٹھیو میٹو نے استنبول میں موجود آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے اعلان پر "حیرت" کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2010ء میں طیب ایردوآن ترکی کے وزیراعظم تھے۔ انہوں نے جب قرطبہ کیتھیڈرل مسجد کا دورہ کیا تواس دورے میں انہوں نے ترک وزیراعظم کی رہ نمائی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر کے فیصلے نے مُجھے حیرت میں ڈال دیا کہ انہوں نے کس طرح اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔ جب آیا صوفیہ اور ہمارے گرجا گھر کے دورے کے دوران دوہرے میعار کی بات ہوئی تو انہوں نے ناراض اور متکبرانہ انداز میں مجھے جواب دیا تھا کہ تاریخی دہرے معیار موجود ہیں، لیکن ہم ترکوں نے آپ سے زیادہ تاریخ کا احترام کیا ہے۔ آیا صوفیہ اس بات کے ثبوت کے ساتھ کہ آج یہ جگہ ایک میوزیم ہے نہ کہ ایک مسجد۔ آپ ہماری مذہبی روایات کا احترام نہیں کرتے ہیں۔ "

ریتھیو میٹیو جو قرطبہ میں اہم شخصیات دوروں کے معمول کے رہ نما اور کتاب "مسجد قرطبہ کیتیڈرل۔ ورلڈ ہیریٹیج" کے مصنف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کے ترکی کے سابق وزیراعظم اور موجودہ صدر طیب ایردوآن ڈیڑھ گھنٹے تک کیتھڈرل مسجد کے دورے پر رہے۔ گائیڈ نے کہا کہ میں نے طیب ایردوآن کو ثقافت دوست اور پڑھا لکھا لیڈر تصور کیا۔ انہوں نے قرطبہ گرجا گھر کی ہدایت کاری میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔ وہ مکہ کے بجائے جنوب کے دورے پر آئے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ پہلا اموی عبدالرحمٰن اول تھا ، جب اس نے اپنے عباسی دشمنوں سے بھاگ کر قرطبہ میں پناہ لی تو اس نے اپنی مسجد دمشق کی طرح یہاں ایک مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

طیب ایردوآن کی سوچ میں ایک عشرے بعد تبدیلی آئی جب انہوں نے تاریخی میوزیم آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرکے جمعہ کی نماز ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ آیا صوفیہ میں پہلا جمعہ 24 جولائی کو ہوگا۔ تب تک حکام آیا صوفیہ کے اندر اور باہر موجود بازنطینی دور کی تمام علامتوں کو مٹا دیں گے کیونکہ اسلام ایسی علامتوں کو مسجد کا حصہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔

آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے انقرہ کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر سخت ردعمل بھی آیا۔ پہلا ردعمل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت یونیسکو کی طرف سے آیا۔ اس کے جواب میں ترک وزیرخارجہ مولود جاویش اوگلو نے کہا کہ اسپین میں مسجد قرطبہ آٹھویں صدی میں ایک مسجد سمجھی جاتی تھی۔ تیرہویں صدی میں اسے چرچ میں تبدیل کیا گیا ، کیا آج کل بطور چرچ استعمال ہوتی ہے؟ ہاں۔ کیا یہ عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں ہے؟ ہاں۔ (اہم نشان) کے تحفظ سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ نہیں کہ اسے مسجد یا چرچ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ترک وزیرخارجہ کا بیانیہ ترک صدر کے ایک عشرے قبل کے دورہ اندلس کے دوران ظاہر کردہ موقف سے بہت مختلف ہے۔