.

جنیوا کے پراسیکیوٹر کی پیرس میں اسلامی اسکالر سے آبرو ریزی کیسز میں پوچھ تاچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کو پیرس کی ایک عدالت میں جنیوا کے پراسیکیوٹرجنرل نے سماعت کے دوران اسلامی اسکالر پروفیسر طارق رمضان سے ان پر عاید کردہ عصمت دری کے چار کیسز میں ملزم سے پوچھ تاچھ کی۔

سوئس اسلامی مفکر پروفیسر طارق رمضان پر فرانس میں چار خواتین کی عصمت دری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر سویٹزرلینڈ میں تشدد کا استعمال کرنے کے ساتھ ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔

جنیوا کے پراسیکیوٹر جنرل نے فرانسیسی تفتییشی جج کی موجودگی میں طارق رمضان سے تین گھنٹے تک خواتین سے جنسی زیادتی کیسز میں پوچھ گچھ کی۔

خیال رہے کہ فرانس کی ایک عدالت کے حکم پر طارق رمضان کو نظر بند رکھنے کے ساتھ انہیں کیسز کی تحقیقات مکمل ہونے تک بیرون ملک سفر سے روک دیا ہے۔

سوئس خاتون نے 2018 کے بعد طارق رمضان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے جنیوا میں 2008 میں انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ یرغمال بنا کر رکھا تھا۔

طارق رمضان کے وکیل پاسکل گاربارینی نے کہا کہ سماعت کے دوران ان کے موکل پر کوئی نیا الزام عاید نہیں کیا گیا۔ سماعت معمول کے مطابق جاری رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مؤکل کا موقف درست تھا اور اس نے بہت مفصل بیان دیا میرا خیال ہےاس بیان کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

وکیل نے کہا کہ "اب اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر مدعی کے ساتھ تصادم کا ہو گا۔