.

احتجاج کے خوف سے ایران میں سیکیورٹی سخت، گرفتاریاں، انٹرنیٹ محدود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ متعدد بڑے شہروں میں سیکیورٹی فورسز اور بلوا پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ ملک میں ہونے والے مظاہروں کو زیادہ پھیلنے سے روکا جا سکے۔

دوسری طرف پولیس نے مظاہروں کے خوف سے لوگوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی ہے۔ کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس محدود کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کہ بهبهان شہر میں پولیس نے کریک ڈائون میں کم سے کم تیس مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔

سماجی کارکنوں نے بتایا کہ دارالحکومت تہران میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ تہران میں سعادت آباد کےمقام پر پولیس کو موٹرسائیکلوں اور کاروں میں سڑکوں پر گشت کرتے بھی دیکھا گیا ہے۔

جمعرات کی شام بڑے شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے بعد جنوبی مغربی شہر بهبهان کی سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی جس نے حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کو منتشر کردیا۔

اطلاعات کے مطابق ارومیہ، مشہد اور شیراز جیسے بڑے شہروں میں لوگوں کی باہمی رابطہ کاری محدود کرنےکے لیے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس محدود کردی گئی ہے جب کہ ان شہروں کی سڑکوں پرپولیس کی بھاری نفری بھی گشت کر رہی ہے۔

تہران، رشت، زنجان، ابھر، شیراز، کرج، شہریار، اہواز اور دیگر شہروں میں انٹرنیٹ کی رفتار کی شکایات ملی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے احتجاج کے دوران انٹرنیٹ منقطع کردیا ہے تاکہ لوگوں کو مظاہروں کے لیے رابطہ کرنے سے روکا اور معلومات کے تبادلے کو روکا جا.سکے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹلیجنس نے خراسان اور فارس صوبوں میں حکومت مخالف مظاہروں کی تیاری میں مصروف متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

نیوز ایجنسی "ہرانا" نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کے روز پولیس نے بهبهان شہر میں مظاہروں میں شرکت کے لیے جمع ہونے والے 30 کے قریب افراد کو گرفتار کیا ہے۔