.

طالبان کی قیادت نے افغان امن بات چیت سے قبل مذاکراتی ٹیم تبدیل کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کے امیر ملّا ہیبت اللہ اخونزادہ نے افغان حکومت کے ساتھ امن بات چیت سے قبل اپنی مذاکراتی ٹیم تبدیل کردی ہے اور اس میں اپنے چار قریبی معاونین کو شامل کیا ہے۔

پاکستان میں کسی نامعلوم مقام پر روپوش ایک طالبان کمانڈر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ملّا ہیبت اللہ نے مذاکراتی ٹیم پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے یہ تبدیلیاں کی ہیں اور تمام نئے ارکان طالبان کی قیادت کونسل میں بھی شامل ہیں۔اس وجہ سے ٹیم کو مذاکرات کے دوران میں فوری فیصلے کرنے میں سہولت رہے گی۔

طالبان کے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مارچ میں آغاز ہونا تھا لیکن ان میں بوجوہ تاخیر ہوئی ہے اور فریقین ایک دوسرے کو تشدد کو مہمیز دینے کا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں جن نئے چہرے کو شامل کیا گیا ہے،ان میں طالبان کے چیف جسٹس شیخ عبدالحکیم ، طالبان دور حکومت میں سابق چیف جسٹس مولوی ثاقب ،تحریک کے مرحوم امیر ملّا محمد عمر کے قریبی ساتھی اور محافظ ملّا شیریں اور افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار کے سابق گورنر مولوی عبدالکبیر شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس ردوبدل سے قبل طالبان کی مذاکراتی ٹیم سے جن تین یا چار ارکان کو خارج کیا گیا ہے،ان میں سینیر فوجی کمانڈر ملّا امیرخان متقی بھی شامل ہیں۔ان نئی نامزدگیوں کے علاوہ ملّا اخونزادہ نے ملّا عمر کے بیٹے ملّا یعقوب کو گروپ کے عسکری ونگ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

وہ طالبان کی مرکزی شوریٰ کونسل کے پہلے ہی رکن ہیں اور نائب امیر کے منصب پر بھی فائز ہیں۔طالبان کے ایک فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ’’ ملّا یعقوب نوجوان ، توانا اور تجربہ کار ہیں۔وہ اپنے خاندانی پس منظر اور تجربے کی بنا پر طالبان میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

طالبان کا قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سیاسی دفتر ہے اور اسی دفتر میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا عمل مکمل ہونے کے بعد مذاکرات متوقع ہیں۔دوحہ سمجھوتے کے تحت کابل حکومت نے سکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو چھوڑنے کے بدلے میں طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔تاہم افغان حکام کے مطابق صدر اشرف غنی کی حکومت نے اب تک طالبان کے 4400 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ’’ طالبان کے پاس لڑائی روکنے اور بے گناہوں کی زندگیوں کو بچانے کا ایک موقع تھا لیکن اس کے بجائے انھوں نے مزید لوگوں کو ہلاک کرنے کا انتخاب کیا ہے اور امن کے لیے اپنے کسی عزم کا اظہار نہیں کیا ہے۔‘‘

طالبان نے حالیہ ہفتوں میں افغان سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کردیے ہیں اور انھوں نے ان حملوں میں افغان سکیورٹی فورسز اور پولیس کے دسیوں اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔افغانستان میں تشدد میں کمی کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطرکے دارالحکومت دوحہ میں سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت امریکی اور دوسری غیرملکی فورسز جولائی 2021ء تک افغانستان سے نکل جائیں گی لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ طالبان مختلف سکیورٹی ضمانتوں کی پاسداری کریں گے اور افغان حکومت سے مذاکرات کریں گے۔