.

فرانس کا امریکا سے لیبیا پر اسلحہ کی پابندیاں مزید سخت کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز کرائی گئی اس امریکی یقین دہانی کو مسترد کردیا کہ لیبیا پر اقوام متحدہ کے اسلحے کی پابندی کے نفاذ کے لیے قائم کردہ یورپی یونین کے بحری مشن متعصبانہ اور سنجیدہ نہیں ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ یورپی مشن سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ ہمارا امریکا سے مطالبہ ہے کہ وہ لیبیا کو اسلحہ کی ترسیل روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

جمعرات کے روز مشرق قریب امور کے لیے امریکی معاون وزیر خارجہ ڈیوڈ شینکر نے کہا کہ یورپ کو ترکی پر اسلحہ کی پابندی کو محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس معاملے پر روسی فوجی گروپ ویگنر اور ماسکو کی مذمت کرنی چاہیے۔

شینکر کے تبصرے کے جواب میں فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان اگنس وون ڈیر مول نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم اپنے تمام اتحادیوں، جن میں پہلا اور اہم اتحادی امریکا ہے، سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلحے کی پابندی کی بار بار خلاف ورزیوں کو روکنے اور جامع سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرے۔

ترکی نے لیبیا میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران فیصلہ کن مداخلت کی ہے۔ اس نے شام سے اپنے اتحادی گروپوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں جنگ جو لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے طرابلس پہنچائے اور اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری مقدار کی سپلائی جاری ہے تاکہ جنرل خلیفہ حفتر کی زیرکمان فوج کو طرابلس پر چڑھائی سے روکا جا سکے۔

لیبیا میں اسلام پسند عسکریت پسندوں سے لڑنے کے لیے فرانس کی طرف سے خلیفہ حفتر کی فوجی مدد کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ترکی نے فرانس پر خلیفہ حفتر کی سیاسی کا بھی الزام عاید کیا ہے۔

وان ڈیر مول نے کہا کہ فرانس لیبیا تنازع میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلت کے تناظر اس اہم عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ لیبیا میں کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں۔ فرانس لیبیا میں بیرونی مداخلت کی بار بار سخت الفاظ میں مذمت کرچکا ہے۔