.

ایک مضبوط عراق کے لیے مسلح ملیشیاؤں کی سپورٹ روکنا ہو گی: برطانوی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں برطانیہ کے سفیر اسٹیفن ہیکی نے باور کرایا ہے کہ "آج امریکی سفارت خانے کو راکٹ حملوں سے نشانہ بنائے جانے کے واقعے سے اس بات کی یاد دہانی ہوتی ہے کہ ایک طاقت ور عراق کی تعمیر میں بنیادی اقدام، ریاستی کنٹرول سے باہر مسلح جماعتوں کو حاصل بیرونی سپورٹ کے خاتمے اور عراق میں قانون کی بالادستی میں پوشیدہ ہے"۔

برطانوی سفیر نے یہ بات اتوار کی شام اپنی ٹویٹ میں کہی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف بغداد کا دورہ کر رہے ہیں۔

اس سے قبل العربیہ کے نمائندے نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ دو کیٹوشیا راکٹ بغداد کے گرین زون میں امریکی سفارت خانے کے نزدیک گرے۔ گرین زون میں متعدد سفارت خانے اور سرکاری ادارے واقع ہیں۔

گذشتہ ماہ جون میں انسداد دہشت گردی کی فورس نے بغداد کے جنوب میں عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے مرکز پر چھاپا مارا تھا۔ یہ کارروائی کئی ماہ سے جاری راکٹ حملوں کے تناظر میں کی گئی۔ ان کارروائیوں میں بدستور عراق میں امریکی افواج کے زیر قیام فوجی اڈوں اور دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کے اطراف علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دوران تہران نواز عراقی مسلح گروپ تمام امریکی فوجیوں کو ملک سے نکال دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی گذشتہ ماہ بغداد اور واشنگٹن کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آغاز کا اعلان کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ عراقی صدر برہم صالح نے گذشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے استقبال کے موقع پر زور دیا کہ خطے کو مشترکہ مفاہمت کی ضرورت ہے تا کہ بحرانات کا حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن کو مضبوط بنایا جا سکے۔

دوسری جانب وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے واضح کیا ہے کہ عراق خطے میں امن کے قیام کے سلسلے میں اپنے متوازن کردار کے لیے کوشاں ہے۔

عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران باور کرایا کہ ان کا ملک علاقائی اور بین الاقوامی کشیدگیوں سے اجتناب برتنے اور اپنی خود مختاری کی حفاظت کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عراق پڑوسی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے اور ان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے موقف پر ثابت قدم ہے۔