.

تونسی پارلیمنٹ کے باہر الغنوشی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ہزاروں افراد کا مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل اتوار کے روز افریقی عرب ملک تونس میں پارلیمنٹ کے باہر ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین اسلام پسند مذہبی سیاسی جماعت النہضہ کے سربراہ علامہ راشد الغنوشی کو پارلیمنٹ کے اسپیکر کےعہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تونسی پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اہتمام ملک کی فری دستور پارٹی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے تحریک النہضہ اور الکرامہ اتحاد کی جانب سے دیگر رکان پارلیمان کے خلاف اشتعال انگیز رویہ اختیار کرنے کی شدید مذمت کی۔

مظاہرین نے کہا کہ منتخب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے النہضہ اور اس کے سربراہ راشد الغنوشی نے غیر جمہوری طرز عمل اپنایا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ نہ دے کر ملک میں‌ سیاسی عدم استحکام کو آگے بڑھانے میں مدد کی ہے۔ مظاہرین کی قیادت نے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور تحریک النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے دستور پارٹی کےرہ نمائوں نے کہا کہ راشد الغنوشی، ، ان کی جماعت النہضہ اور الکرامہ اتحاد دہشت گردوں کو پارلیمنٹ میں لانے اور ان کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ الکرامہ اتحاد نے ایک ایسے شخص کو پارلیمنٹ میں داخل کرایا جس کا تعلق ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ ہے۔ دہشت گرد کے ایوان میں آنے کے بعد پارلیمنٹ کی کارروائی معطل کرنا پڑی تھی۔

پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے والے مظاہرین نے علامہ راشد الغنوشی کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور ملک کو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں سے نجات دلانے پر زور دیا۔